" کراچی کو انتظار ہے "
نئے لوگوں کے ساتھ امیدوں کا سلسلہ بہت طویل ہے ۔ ملک کے کونے کونے میں محرومیوں کے ستائے لوگ بہت خوش ہیں کہ اب ہر طرف امن ہوگا ، خوشحالی ہوگی ، جس لاٹھی سے غریب کو ہانکا جاتا تھا اب اسی لاٹھی سے ہر امیر کا بھی پالا پڑے گا ۔ انصاف ہوگا اور بولتا ہوا انصاف ہوگا ۔ یہ امیدیں ہیں ، اللہ کرے پوری ہوجائیں ۔ اقتدار میں تو وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ کسی نہ کسی طرح اسی سیاست کے کھلاڑی تھے ۔ مایوسی گناہ ہے ، اللہ کرے اب قوم اچھے دن دیکھنے کا آغاز کردے ۔ ایسے میں یاد دلانا تھا کہ پاکستان کا ایک شہر ہوا کرتا تھا ، جو پاکستان کے ہر کونے سے آنے والے ضرورت مند کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا کرتا تھا ۔ جہاں راتیں جاگتی تھیں ۔ جو پاکستان کی معیشت کا مضبوط سہارا تھا ۔ جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا ۔ جہاں لوگ ایک چادر کندھے پہ رکھ آئے اور آج دولت انکی گنتی سے باہر ہے ۔ یہاں کے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔ میرٹ کا قتل ہوتا رہا - کوٹے کی تلوار نے سسٹم کو توڑ کر رکھ دیا ۔ ذہین طالبعلم تعلیم کے حق سے محروم ہونے لگے تو کچھ حریت کی ہوا چلی ۔ ایسی چلی کہ زور آور آندھی بن گئی ۔ مفاد پرست سیاست میں آئے ، دہشت میں آئے اور جہاں لوگ کتابیں لکھتے تھے ، ادب و آداب کو پوجتے تھے وہاں بندوقیں اٹھا لیں ۔ پولیس اور انتظامیہ نے بھی خوب گل کھلائے ۔ پورے پاکستان سے ظالم پولیس افسر کراچی لا کر بٹھا دئیے انہوں نے جس کو چاہا اٹھایا ، جس نے پیسے نہ دئیے ، دہشت گرد کہا اور مار دیا ۔ کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ کراچی دو کروڑ کی آبادی ہے ، دہشت گرد کتنے ہونگے ، دو چار ہزار ۔ پوری کراچی سے اسکے حقوق کیوں چھینے گئے ؟ آج کراچی کے دو کروڑ سے زاید افراد کو کونسی سہولت میسر ہے ۔ پولیس باہر سے ، انتظامیہ باہر سے ، عدلیہ باہر سے ، بیورو کریٹ باہر سے ، کلیدی کرسیاں کوٹے سے لائے گئے نااہلوں کے پاس ۔ کیا کراچی کی اس محرومی پر کوئی غور کرے گا ؟ کیا پیشہ ور سیاستدان غور کرنے دیں گے ؟ صاف پانی تو بنیادی حق ہے ۔ کیا اب کراچی کو ایسا پانی ملے گا جسے لوگ پی کر جی سکیں ؟ کیاٹرانسپورٹ کی حالت پر توجہ ہوگی یا منی بسوں کی چھتوں پر لٹکنے ہی کو جاری رکھا جائے گا ؟ کیا اب میرٹ پہ نوکریاں ملیں گی ؟ کراچی منتظر ہے کسی بھی مسیحا کا ۔ جو اسکے رستے زخموں پر مرحم رکھے ۔ اسلام آباد نہ سہی ، لاہور نہ سہی ۔ کراچی کو پہلے والا کراچی ہی بنا دے ۔ اسکے دیواروں سے بے رونقی کے سائے ہٹا دے ۔ اسکے شہریوں کے سوکھے ہونٹوں پر مسکراہٹیں لوٹا دے ۔ کراچی کو انتظار ہے کہ اسے پھر سے توجہ دو ۔ کراچی کا وعدہ ہے کہ پھر سے " کماو پتر " بن کر دکھائے گا ۔ اسکی محرومیوں پر پہلی توجہ درکار ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٦ اگست ٢٠١٨
Thursday, 16 August 2018
کراچی کو انتظار ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment