" قابل رحم مخلوق "
دھرتی پہ ایک ایسی مخلوق بھی کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ جسے شوہر کہا جاتا ہے ۔ ایک بھولی بھالی مخلوق ، جس کا شوہریت قبول کرتے ہی سب سے پہلے سوچنے والا پرزہ ، گروی ہو جاتا ہے ۔ آواز بھی دب جاتی ہے ۔ شوق بھی چھوٹ جاتے ہیں ، ذائقہ کی حس بھی مر جاتی ہے ۔ چلتا پھرتا پتلا ، شوہر کہلاتا ہے ۔ ھمارے ایک دیرینہ دوست جو ہر وقت قہقہے لگاتے دکھائی دیتے تھے ، پچھلے کئی سال سے مختصر سی مسکراہٹ پہ گذارا کئے بیٹھے ہیں ۔ آج سوچا کہ چلو ، یار سے چائے پیتے ہیں ۔ موصوف پہلے تو گبھرائے ، پھر ہمت کر کے بھابھی کو آواز دی ۔ ہمارا تجربہ ناکام ہو گیا ۔ پہلی آواز پہ " جی ڈارلنگ " سے جواب نے ہمیں حیران کر دیا ۔ چار سال شادی کے بعد بھی " جی " اور بھی " ڈارلنگ " کہہ کر ۔ ایسے لگا موصوف کی کوئی نیکی کام آگئی ، جو اللہ نے ایسی رفیق زندگی دے دی ۔ ادھر صاحب بہادر کی سانس رکی ہوئی محسوس ہوئی ۔
" کیا ہوا دوست ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے "
ہم نے پوچھ لیا ۔
" کچھ نہیں ۔ تم لوگوں نے سنا نہیں ۔ جی ڈارلنگ ۔ شادی کے بعد سے تیسری بار یہ لفظ میں نے سنا ہے ۔ آج موڈ ٹھیک نہیں لگ رہا محترمہ کا ۔ چونکہ مجھے یہ لفظ کبھی راس نہیں آیا ، اسلئے گبراہٹ ہو رہی ہے "
اتنی دیر میں آواز آئی
" حضور چائے کے ساتھ کیا لیں گے ۔ سارا دن موج میلہ کر کے آگئے ہیں ۔ اب خادمہ پر حکومت شروع - تم مردوں کو ذرا سی ڈھیل دے دو ، پھر حکم پہ حکم "
صاحب اٹھے اور اندر چلے گئے ۔ آواز تھم گئی ۔ خاموشی اور سکوت ۔ مگر بیچارہ ابھی بھی سہما ہوا تھا ۔ ہمارے دلوں سے دعا نکل رہی تھی ۔
" اے مالک ، اس بیچارے کی مشکل آسان فرما ۔ اسکے ساتھ ہماری بھی "
شکریہ
آزاد ہاشمی