Friday, 20 January 2017

قابل رحم مخلوق


" قابل رحم مخلوق "
دھرتی پہ ایک ایسی مخلوق بھی کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ جسے شوہر کہا جاتا ہے ۔ ایک بھولی بھالی مخلوق ، جس کا شوہریت قبول کرتے ہی سب سے پہلے سوچنے والا پرزہ ، گروی ہو جاتا ہے ۔  آواز بھی دب جاتی ہے ۔ شوق بھی چھوٹ جاتے ہیں ، ذائقہ کی حس بھی مر جاتی ہے ۔ چلتا پھرتا پتلا ، شوہر کہلاتا ہے ۔  ھمارے ایک دیرینہ دوست جو ہر وقت قہقہے لگاتے دکھائی دیتے تھے ، پچھلے کئی سال سے مختصر سی مسکراہٹ پہ گذارا کئے بیٹھے ہیں ۔ آج سوچا کہ چلو ، یار سے چائے پیتے ہیں ۔ موصوف پہلے تو گبھرائے ، پھر ہمت کر کے بھابھی کو آواز دی ۔  ہمارا تجربہ ناکام ہو گیا ۔ پہلی آواز پہ " جی ڈارلنگ " سے جواب نے ہمیں حیران کر دیا ۔ چار سال شادی کے بعد بھی " جی " اور بھی " ڈارلنگ " کہہ کر ۔ ایسے لگا موصوف کی کوئی نیکی کام آگئی  ، جو اللہ نے ایسی رفیق زندگی دے دی ۔ ادھر صاحب بہادر کی سانس رکی ہوئی محسوس ہوئی ۔
" کیا ہوا دوست ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے "
ہم نے پوچھ لیا ۔
" کچھ نہیں ۔ تم لوگوں نے سنا نہیں ۔ جی ڈارلنگ ۔ شادی کے بعد سے تیسری بار یہ لفظ میں نے سنا ہے ۔ آج موڈ ٹھیک نہیں  لگ رہا محترمہ کا ۔ چونکہ مجھے یہ لفظ کبھی راس نہیں آیا ، اسلئے گبراہٹ ہو رہی ہے "
اتنی دیر میں آواز آئی
" حضور چائے کے ساتھ کیا لیں گے ۔ سارا دن موج میلہ کر کے آگئے ہیں ۔ اب خادمہ پر حکومت شروع - تم مردوں کو ذرا سی ڈھیل دے دو ، پھر حکم پہ حکم "
صاحب اٹھے اور اندر چلے گئے ۔ آواز تھم گئی ۔ خاموشی اور سکوت ۔ مگر بیچارہ ابھی بھی سہما ہوا تھا ۔ ہمارے دلوں سے دعا نکل رہی تھی ۔
" اے مالک ، اس بیچارے کی مشکل آسان فرما ۔ اسکے ساتھ ہماری بھی "
شکریہ
آزاد ہاشمی

تیرا میرا رب "


" تیرا میرا رب "
سوشل میڈیا پر ایک اعلیٰ پولیس افسر اپنے مرشد کے سامنے  دو زانو بیٹھا ، دعا کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ اسکا بیٹا کسی نا کردہ گناہ کی پاداش میں پابند سلاسل ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ ذاتی چپقلش سے یہ واقعہ ہوا ۔ کم طاقتور نے کسی زیادہ طاقتور سے پنگا لے لیا ۔ جس معاشرے سے انصاف ، قانون اور اسکے ساتھ ایمان اٹھ جائے ، وہاں ایسے واقعات عجیب نہیں لگتے ۔ معمول بن جاتا ہے ۔ میرے مشاہدے میں بہت سارے بے لگام افسران کی مثالیں ہیں ، جو وردی میں خدا بنے بیٹھے رہتے ہیں ۔ نہ کسی غریب کی غربت کا احساس ، نہ کسی کی عزت و آبرو کا لحاظ ، جسے چاہا سر بازار رسوا کر ڈالا ، جسے چاہا بے قصور مجرم بنا ڈالا ۔ یہ ایک روایت بن گئی کہ جو حفاظت دینے والے تھے ، وہ خوف کے نشان بن گئے ۔ بعض نے نیک نامی کا تمغہ سجانے کی خاطر ہر ناجائز کو جائیز کر ڈالا ۔
اب یہ تو ضروری نہیں کہ مزکورہ افسر بھی اسی مزاج کا ہو ۔ مگر یہ ضروری ہے کہ معاشرے کو  اور اسکے پیٹی بھائیوں کو ایک مثال مل گئی ۔ جسے بطور سبق یاد رکھنا ہو گا ۔ کہ آخری فیصلہ کرنے والا تیرا بھی رب ہے تو میرا بھی رب ہے ۔ کتنا اچھا ہوتا  ، مدد کے لئے رب کو پکارا ہوتا ۔  اللہ کے سامنے گڑگڑانے کا گر سیکھا ہوتا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

بھیک "







" بھیک "
خود داری اور اللہ کی قدرت پر توکل کا جنازہ اس وقت بڑی دھوم سے نکل جاتا ہے ۔ جب ہمارے حکمران بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے فلاں دوست ملک نے اتنی امداد دی ہے ۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ ہمارے حکمران کاسہ گداگری لے کر کبھی امریکہ کے سامنے دو زانو بیٹھے ہوتے ہیں  ، کبھی چین اور کبھی سعودیہ کے چرنوں میں ۔
ہم مانگنے پر کیوں مجبور ہوئے ، اللہ نے ہمارے ہاتھوں کاسہ گدائی کیوں تھما دیا ۔ کبھی سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئی ، اس گداگر کی طرح جس نے گداگری کو پیشہ بنا رکھا ہو ۔ اسے نہ شرم آتی ہے اور نہ احساس باقی رہتا ہے ۔
اللہ کے احکامات سے سرکشی کی سزا ہمیشہ رسوائی اور رزق میں قلت ہوا کرتی ہے ۔ وہی ہم بھگت رہے ہیں ۔ ہم سود پر اٹھائے قرض کی لعنت کو اپنے گلے میں ڈال کر اللہ سے مخاصمت کر رہے ہیں ۔ اللہ نے منع کیا اور ہم نے عذر بنا کر اسکے حکم کو پس پشت ڈالا ۔ یہ سارے قرضے نہ ملکی مسائل کا حل نکال سکے اور نہ ہی ایسی ترقی ہوئی جس کا ہم سوچے بیٹھے تھے ۔
آج ہماری عزت ایسے ہے جیسے کسی گاوں میں ایک بھکاری کی ہوتی ہے ۔
جب اللہ نے ہمارے لئے ہر ضرورت پوری کرنے کے وسائل  ، معدنیات کے خزانے عطا کر رکھے ہیں ۔ پھر بھی ہم بھیک مانگ رہے ہیں تو یقیناً اللہ کی ناراضگی خرید چکے ہیں ۔
لمحہ فکریہ ہے ہر ذی شعور کے لئے ، ہر سیاستدان کے لئے ، ہر مذہبی رہنما کے لئے۔
شکریہ
آزاد ہاشمی


Thursday, 19 January 2017

PEACE AND HUMINITY: IF YOU LOVE PEACE.

PEACE AND HUMINITY: IF YOU LOVE PEACE.: IF YOU LOVE PEACE. Every human being , by nature loves  to be in peace. Peace is basically an  internal satisfaction. The motto  to  win ...

IF YOU LOVE PEACE.

IF YOU LOVE PEACE.
Every human being , by nature loves  to be in peace. Peace is basically an  internal satisfaction.
The motto  to  win economy race , the dictating attitude , the ill will for others and attitude to impose religious ideologies has spoiled the peace in every corner of the planet.
Very difficult to understand , that why the intellectuals of the time are not concentrating to find the way to bring real peace to all humanity. The nations with power    , wealth ,  technology , and the nations with God blessed resources  , the nations with laboreous man power so on , if join heads and hands peace will be resultant without any power show , without any fight.
The dream of some  nations to conquer world to be head of all over the world has also created worst impact to destabilise  peace situation. One is fighting to get his goal and second is fighting to survive. Unless this attitude is not changed there is negative possibility to make the earth a peaceful planet. Every religion does not teach any follower to be aggressive in any situation , then why this ideology is not followed. Strong or weak , both will suffer with fear and worry , will face equal danger for life , will not be able to enjoy the pleasures of life , if will not consider the peace on sincere way.
Let me and you take a step in our circle to convey message of peace and love.
Regards
Azad hashmi

Wednesday, 18 January 2017

خود کشی کہیں گے یا قتل



خود کشی کہیں گے یا قتل
میرے وطن کا ایک اور سپوت زہر کا پیالہ پی کر اپنی بھوک اور غربت سے نجات پا گیا - صرف اپنی جان دیتا تو مایوسی کی انتہا تھی , مگر اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو بھی زہر دیا - بد نصیب باپ نے سوچا ہو گا کہ جس دنیا میں اسکے مضبوط کندھے اسکا کا رزق تلاش نہیں کر سکے  - وہاں  کا ظالم معاشرہ اسکی کمزور بیٹی کو روٹی کہاں دے گا - درندوں کے نگر میں اپنی چادر کو کیسے بچا پاے گی -
جس روز وہ زہر پلا رہا ہو گا , اسکے اپنے خون کے رشتوں میں دستر خوان سجے ہوں گے - قوم کے غم میں سیاسی مداری بھی گلچھرے اڑا رہے ہوں گے - ہمسایوں میں بھی چولہے جلے ہوں گے -
جس  معاشرے میں بے حسی کا یہ عالم ہو , اس معاشرے میں زندہ رہنے کا فائدہ -  اسلام کا پیغام ہے کہ اگر کسی عبادت گزار کا ہمسایہ رات کو بھوکا سو جاے تو اس عابد کی عبادت بھی الله کو قبول نہیں - یہ تقدیر کا مارا خاندان کتنی راتیں بھوکا  سویا ہو گا -
اسے خود کشی کہیں گے یا قتل - یہ قتل ہے , اور یہ قتل ہم سب نے کیا , معاشرہ انکا قاتل ہے , علاقے کا ہر صاحب حثیت قاتل ہے - حکمران قاتل ہیں - اسکے تمام رشتہ دار قاتل ہیں - اسکی لاش پہ رونے والے قاتل ہیں - جس نگر میں اس نے زہر پیا وہ سارا نگر قاتل ہے - ایک بھیانک قتل -
آزاد ہاشمی

توکل



توکل
شدید بارش کے سبب ٹیکسی لینا بہتر تھا -
"ماڈل کالونی چلو گے -"
" کتنے پیسے لو گے -"
" جو دل کرے دے دینا سرجی   "
" پھر بھی "
" سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا - میں ایک جاہل آدمی ہوں -پر  اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے , وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے - توکل اسی کا نام ہے "
اس کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں - ٹیکسی ابھی تھوڑا آگے گئی کہ مسجد دکھائی دی -
" سر جی - نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں " اس نے  ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی
" آپ نماز ادا کریں گے "
" کس مسلک کی مسجد ہے یہ " میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا -
" باؤ جی ! مسلک سے کیا لینا دینا - اصل بات سجدے کی ہے - الله کے سامنے جھکنے کی ہے - یہ الله کا گھر ہے"
میرے پاس کوئی عذر باقی نہیں تھا - نماز سے فارغ ہوۓ اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے -
" سر , آپ نماز با قاعدگی سے ادا کرتے ہیں -
" کبھی پڑھ لیتا ہوں , کبھی غفلت ہو جاتی ہے " یہی سچ تھا -
" جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہو گئی اور نہیں ہونی چاہیۓ "
" معاف کرنا , یہ ذاتی سوال نہیں - اگر احساس ہوتا ہے تو الله ایک دن آپ کو ضرور نمازی بنا دے گا - اگر احساس نہیں ہوتا تو ----"
وہ خاموش ہو گیا - اسکی خاموشی مجھے کاٹنے لگی -
" تو کیا " میرا لہجہ بدل گیا -
" اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں "
" ہاں بولیں "
" اگر غفلت کا احساس نہیں ہو رہا تو اپنے آمدن کے وسائل پر غور کریں - اور اپنے الله سے معافی مانگیں , الله آپ سے راضی نہیں "
ہم منزل پہ آ چکے تھے - میں نے اسکے توکل کی حقیقت جاننے کی لئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا , اس نے بسم الله کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا - میں نے آواز دی , وہ رک گیا -
" حکم سر جی "
" تم ان پیسوں میں خوش ہو "
" جی , مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہو گا - الله نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا "
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے - میں نے جیب سے مزید دو سو نکالے اور اسے دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا - وہ مسکرایا -
" سر جی , دیکھا آپ نے - میرا حق پچاس روپے تھا , اور الله کے توکل نے مجھے دو سو دیا "
وہ چلا گیا , میرے ایمان کو جھنجھوڑ کر -