Wednesday, 18 January 2017

خود کشی کہیں گے یا قتل



خود کشی کہیں گے یا قتل
میرے وطن کا ایک اور سپوت زہر کا پیالہ پی کر اپنی بھوک اور غربت سے نجات پا گیا - صرف اپنی جان دیتا تو مایوسی کی انتہا تھی , مگر اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو بھی زہر دیا - بد نصیب باپ نے سوچا ہو گا کہ جس دنیا میں اسکے مضبوط کندھے اسکا کا رزق تلاش نہیں کر سکے  - وہاں  کا ظالم معاشرہ اسکی کمزور بیٹی کو روٹی کہاں دے گا - درندوں کے نگر میں اپنی چادر کو کیسے بچا پاے گی -
جس روز وہ زہر پلا رہا ہو گا , اسکے اپنے خون کے رشتوں میں دستر خوان سجے ہوں گے - قوم کے غم میں سیاسی مداری بھی گلچھرے اڑا رہے ہوں گے - ہمسایوں میں بھی چولہے جلے ہوں گے -
جس  معاشرے میں بے حسی کا یہ عالم ہو , اس معاشرے میں زندہ رہنے کا فائدہ -  اسلام کا پیغام ہے کہ اگر کسی عبادت گزار کا ہمسایہ رات کو بھوکا سو جاے تو اس عابد کی عبادت بھی الله کو قبول نہیں - یہ تقدیر کا مارا خاندان کتنی راتیں بھوکا  سویا ہو گا -
اسے خود کشی کہیں گے یا قتل - یہ قتل ہے , اور یہ قتل ہم سب نے کیا , معاشرہ انکا قاتل ہے , علاقے کا ہر صاحب حثیت قاتل ہے - حکمران قاتل ہیں - اسکے تمام رشتہ دار قاتل ہیں - اسکی لاش پہ رونے والے قاتل ہیں - جس نگر میں اس نے زہر پیا وہ سارا نگر قاتل ہے - ایک بھیانک قتل -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment