خود کشی کہیں گے یا قتل
میرے وطن کا ایک اور سپوت زہر کا پیالہ پی کر
اپنی بھوک اور غربت سے نجات پا گیا - صرف اپنی جان دیتا تو مایوسی کی انتہا تھی ,
مگر اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو بھی زہر دیا - بد نصیب باپ نے سوچا ہو گا
کہ جس دنیا میں اسکے مضبوط کندھے اسکا کا رزق تلاش نہیں کر سکے - وہاں
کا ظالم معاشرہ اسکی کمزور بیٹی کو روٹی کہاں دے گا - درندوں کے نگر میں
اپنی چادر کو کیسے بچا پاے گی -
جس روز وہ زہر پلا رہا ہو گا , اسکے اپنے خون
کے رشتوں میں دستر خوان سجے ہوں گے - قوم کے غم میں سیاسی مداری بھی گلچھرے اڑا
رہے ہوں گے - ہمسایوں میں بھی چولہے جلے ہوں گے -
جس معاشرے میں بے حسی کا یہ عالم ہو ,
اس معاشرے میں زندہ رہنے کا فائدہ - اسلام کا پیغام ہے کہ اگر کسی عبادت
گزار کا ہمسایہ رات کو بھوکا سو جاے تو اس عابد کی عبادت بھی الله کو قبول نہیں -
یہ تقدیر کا مارا خاندان کتنی راتیں بھوکا سویا ہو گا -
اسے خود کشی کہیں گے یا قتل - یہ قتل ہے ,
اور یہ قتل ہم سب نے کیا , معاشرہ انکا قاتل ہے , علاقے کا ہر صاحب حثیت قاتل ہے -
حکمران قاتل ہیں - اسکے تمام رشتہ دار قاتل ہیں - اسکی لاش پہ رونے والے قاتل ہیں
- جس نگر میں اس نے زہر پیا وہ سارا نگر قاتل ہے - ایک بھیانک قتل -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment