تھک گیا ہوں الله سے مانگ مانگ کر
" چھوڑیں صاحب -
تھک گیا ہوں الله سے مانگ مانگ کر - وہ نہیں سنتا "وہ انتہائی مایوس لہجے میں بول رہا تھا -
" میرے نصیب میں نہیں تھا نہ سہی , میرے بچوں کا نصیب بھی میرے جیسا کیوں بنا دیا - آج تیسرا روزہ ہے , بچے روزے رکھنے پہ بضد ہیں - گھر میں کچھ نہیں کہ سحر افطار کا بندو بست کروں - مزدوری پہ جاتا ہوں کبھی مل جاتی ہے کبھی نہیں - الله سے عزت کی حلال روزی مانگتا ہوں - مگر اب صرف دو راستے باقی ہیں , ایک چوری کروں یا پھر بھیک مانگوں - آپ ہی بتائیں کیسے مانگتے ہیں وہ لوگ الله سے , جن کو الله نے مالا مال کر رکھا ہے - غریبوں کو شاید مانگنا نہیں آتا کہ الله نہیں سنتا "
اسکی آواز میں بلا کا کرب تھا
" میری بیوی نے پتہ نہیں کہاں سے سیکھا , سوکھی روٹی کھا کر روزہ کھولتی ہے , الله کا شکر کہتی ہے اور لمبے لمبے سجدے کرنے لگتی ہے , دونوں بچے بھی کچھ کہے بغیر اسی طرح کرتے ہیں - میں ایک بار سحری پہ مرتا ہوں دوسری بار افطاری پہ - نماز میں بھی پڑھتا ہوں , الله کو ہم میں سے کسی کا سجدہ بھی پسند نہیں آتا - کسی کی نہیں سنتا - مسجدوں میں بھی بڑے بڑے دستر خواں سجنے لگے ہیں , میں وہاں بھی نہیں کھا سکتا , بچوں کی شکلیں سامنے گھومتی ہیں - بندوں کو تو خبر نہیں کہ انکے پڑوس میں کیسا رمضان آیا ہے - الله کو تو خبر ہے نا "
" یہ مایوسیاں کافر کر دیتی ہیں صاحب - میں کئی کئی بار کافر ہو جاتا ہوں - الله سے الجھنے لگتا ہوں - پوچھتا ہوں الله سے کہ یہ سزا ہے تو موت کی سزا دے دو , یہ آزمائش ہے تو ہم ہی پہ کیوں - ہم گنہگار لوگ کس قابل ہیں کہ الله نے آزمائش ڈال دی - صبر کی آزمائش تو روز ہوتی ہے , جب بھوکے بچے میری طرف دیکھتے ہیں "
ایسے لگ رہا تھا شکایت کی لمبی کتاب ابھی باقی ہے - میرے پاس تو کچھ نہیں تھا کہ کہتا -
" نہیں بیٹا ! یہ الله ہی جانتا ہے کہ تمھاری کیا قدر ہے اسکی نظر میں - الله کسی بھی انسان کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا - جتنا بڑا امتحان ہوتا ہے اتنا بڑا انعام ملتا ہے - تم اتنی بڑی آزمائش میں اپنے گھر والوں کا صبر بھی دیکھو - خود کو دیکھو نہ بھیک مانگتے ہو نہ چوری کرتے ہو - ان بڑے لوگوں کے دستر خوان مت دیکھو - یہ سب دنیا داری ہے , دکھاوا ہے , اسراف ہے - الله کو تقوی پسند ہے - تم تو خوش قسمت ہو بیٹا کہ الله نے تم سے اس تنگی میں بھی حوصلہ اور اسکے احکامات کی اطاعت دیکھی "
بابا جی کی بات پہ اس نے لمبی سانس لی , مسکرایا اور بولا -
" چلو یوں ہی سہی "
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment