|
" بھیک "
خود داری اور اللہ کی قدرت پر توکل کا جنازہ اس وقت بڑی دھوم سے نکل جاتا ہے ۔
جب ہمارے حکمران بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے فلاں دوست ملک نے اتنی
امداد دی ہے ۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ ہمارے حکمران کاسہ گداگری لے کر کبھی
امریکہ کے سامنے دو زانو بیٹھے ہوتے ہیں ، کبھی چین اور کبھی سعودیہ کے
چرنوں میں ۔
ہم مانگنے پر کیوں مجبور ہوئے ، اللہ نے ہمارے ہاتھوں کاسہ گدائی کیوں تھما
دیا ۔ کبھی سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئی ، اس گداگر کی طرح جس نے گداگری کو پیشہ
بنا رکھا ہو ۔ اسے نہ شرم آتی ہے اور نہ احساس باقی رہتا ہے ۔
اللہ کے احکامات سے سرکشی کی سزا ہمیشہ رسوائی اور رزق میں قلت ہوا کرتی ہے ۔
وہی ہم بھگت رہے ہیں ۔ ہم سود پر اٹھائے قرض کی لعنت کو اپنے گلے میں ڈال کر
اللہ سے مخاصمت کر رہے ہیں ۔ اللہ نے منع کیا اور ہم نے عذر بنا کر اسکے حکم
کو پس پشت ڈالا ۔ یہ سارے قرضے نہ ملکی مسائل کا حل نکال سکے اور نہ ہی ایسی
ترقی ہوئی جس کا ہم سوچے بیٹھے تھے ۔
آج ہماری عزت ایسے ہے جیسے کسی گاوں میں ایک بھکاری کی ہوتی ہے ۔
جب اللہ نے ہمارے لئے ہر ضرورت پوری کرنے کے وسائل ، معدنیات کے خزانے
عطا کر رکھے ہیں ۔ پھر بھی ہم بھیک مانگ رہے ہیں تو یقیناً اللہ کی ناراضگی
خرید چکے ہیں ۔
لمحہ فکریہ ہے ہر ذی شعور کے لئے ، ہر سیاستدان کے لئے ، ہر مذہبی رہنما کے
لئے۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
|
No comments:
Post a Comment