" سراج الحق صاحب کے نام "
آپکی شخصیت , سادگی , دیانتداری اور وطن سے لگن مسلمہ حقیقت ہے . یہ درست ہے کہ آپ سوچتے بھی ہیں اور چاہتے بھی ہیں کہ وطن عزیز پر وہ نظام نافذ ہو جاے , جو ایک حقیقی مسلمان کا ارمان ہے . آپ عوام سے وہ طاقت مانگ مانگ کر ھلقان بھی ہو رہے ہیں , جس سے اسمبلی کے اندر بیٹھ کر زور اور طاقت کا مظاھرہ کرتے ہوۓ دستور بدل ڈالیں . یہ بھی درست ہے کہ جماعت میں ایک ایک فرد اسی سوچ سے جڑا بیٹھا ہے . آپ واحد لیڈر ہیں جس کو منجھے ہوۓ کارکن میسر ہیں , جو نہ بکتے ہیں نہ جھکتے ہیں . یہ بھی درست ہے جب کبھی اسلام کے نام پر کوئی حرف نظر آیا آپ کی جماعت نے جلوس بھی نکالے اور جلسے بھی کیے . پھر آخر کیا وجہ ہے کہ آپ کی جماعت عوام میں پزیرائی حاصل نہیں کر سکی . کبھی یہ بات آپ نے شوریٰ کے اندر سوچی اور اسکا حل نکالنے کی کوشش کی . ایک جمہوریت وطن میں قائم ہے آپ اسکی پوری آبیاری کرتے ہیں , اور ایک جمہوریت آپکی جماعت کے اندر ہے , کیا وہ وطن کی جمہوریت سے مختلف نہیں . یہاں سے تضاد شروع ہوتا ہے . آپ نے وطن میں نافذ جمہوریت کو اسلام کے نظام حکومت سازی سے جوڑنے کا جو جتن کر رکھا , وہ آپ کے اسلام سے حقیقی وابستگی کو مشکوک کرتا ہے . آپ اسمبلی سے وہی مراعات لیتے ہیں , جو دوسرے کردار باختہ ممبران لیتے ہیں , یہ آپ کے کردار پر سوال بنتا ہے . آپ جو اسلام کے لئے جلوس نکالتے رہتے ہیں ایسے جلوس جمہوریت کے خلاف کبھی نہیں نکالتے , یہ اسلامی نظام سے دوری کا ثبوت بنتا ہے . آپ کی جماعت نے مسلمانوں کے حقوق کا ایسا بیڑا اٹھا رکھا ہے , کہ جہاد کے لئے آپ کارکن جاتے رہتے ہیں . آپ اپنے ملک میں اسلام کے نفاز کے لئے جہاد کیوں نہیں کرتے . ملک لٹ رہا ہے , سب دیکھ رہے ہیں , آپ بھی ویسے ہی تماشا دیکھ رہے ہیں . اسمبلی سے الگ ہو کر آپ کا قد مزید بڑھے گا , آپکو یہ معلوم ہونا چاہیے . یہ معلوم نہ ہونا آپکی اور آپکی جماعت کی سیاسی سوچ پر سوال ہے . قوم کو آپکی سادگی سے کیا لینا دینا , قوم کو تو ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو جمہوریت کے کینسر سے نجات دلا دے . جو امن کی زندگی کا ضامن ہو , جو ظالم کے سامنے کھڑا ہو جاے , جو غریب اور لاچار کی عزت و آبرو کا محافظ بنے . آپ یہ تاثر قائم کرنے کی کوئی ایک مثبت کوشش تو کریں . لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ اسلام کیلیے ووٹ مانگتے ہیں یا جمہوریت کے لئے .
میں اپنے کسی ایک لفظ پر نادم نہیں ہوں - یہ جسارت اسلیے کی کہ شاید آپ چند لمحے سوچیں . آپ کو الله نے یہ موقع دیا ہے , آپ اس سے فائدہ لیں .
وسلام
آزاد ہاشمی
آپکی شخصیت , سادگی , دیانتداری اور وطن سے لگن مسلمہ حقیقت ہے . یہ درست ہے کہ آپ سوچتے بھی ہیں اور چاہتے بھی ہیں کہ وطن عزیز پر وہ نظام نافذ ہو جاے , جو ایک حقیقی مسلمان کا ارمان ہے . آپ عوام سے وہ طاقت مانگ مانگ کر ھلقان بھی ہو رہے ہیں , جس سے اسمبلی کے اندر بیٹھ کر زور اور طاقت کا مظاھرہ کرتے ہوۓ دستور بدل ڈالیں . یہ بھی درست ہے کہ جماعت میں ایک ایک فرد اسی سوچ سے جڑا بیٹھا ہے . آپ واحد لیڈر ہیں جس کو منجھے ہوۓ کارکن میسر ہیں , جو نہ بکتے ہیں نہ جھکتے ہیں . یہ بھی درست ہے جب کبھی اسلام کے نام پر کوئی حرف نظر آیا آپ کی جماعت نے جلوس بھی نکالے اور جلسے بھی کیے . پھر آخر کیا وجہ ہے کہ آپ کی جماعت عوام میں پزیرائی حاصل نہیں کر سکی . کبھی یہ بات آپ نے شوریٰ کے اندر سوچی اور اسکا حل نکالنے کی کوشش کی . ایک جمہوریت وطن میں قائم ہے آپ اسکی پوری آبیاری کرتے ہیں , اور ایک جمہوریت آپکی جماعت کے اندر ہے , کیا وہ وطن کی جمہوریت سے مختلف نہیں . یہاں سے تضاد شروع ہوتا ہے . آپ نے وطن میں نافذ جمہوریت کو اسلام کے نظام حکومت سازی سے جوڑنے کا جو جتن کر رکھا , وہ آپ کے اسلام سے حقیقی وابستگی کو مشکوک کرتا ہے . آپ اسمبلی سے وہی مراعات لیتے ہیں , جو دوسرے کردار باختہ ممبران لیتے ہیں , یہ آپ کے کردار پر سوال بنتا ہے . آپ جو اسلام کے لئے جلوس نکالتے رہتے ہیں ایسے جلوس جمہوریت کے خلاف کبھی نہیں نکالتے , یہ اسلامی نظام سے دوری کا ثبوت بنتا ہے . آپ کی جماعت نے مسلمانوں کے حقوق کا ایسا بیڑا اٹھا رکھا ہے , کہ جہاد کے لئے آپ کارکن جاتے رہتے ہیں . آپ اپنے ملک میں اسلام کے نفاز کے لئے جہاد کیوں نہیں کرتے . ملک لٹ رہا ہے , سب دیکھ رہے ہیں , آپ بھی ویسے ہی تماشا دیکھ رہے ہیں . اسمبلی سے الگ ہو کر آپ کا قد مزید بڑھے گا , آپکو یہ معلوم ہونا چاہیے . یہ معلوم نہ ہونا آپکی اور آپکی جماعت کی سیاسی سوچ پر سوال ہے . قوم کو آپکی سادگی سے کیا لینا دینا , قوم کو تو ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو جمہوریت کے کینسر سے نجات دلا دے . جو امن کی زندگی کا ضامن ہو , جو ظالم کے سامنے کھڑا ہو جاے , جو غریب اور لاچار کی عزت و آبرو کا محافظ بنے . آپ یہ تاثر قائم کرنے کی کوئی ایک مثبت کوشش تو کریں . لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ اسلام کیلیے ووٹ مانگتے ہیں یا جمہوریت کے لئے .
میں اپنے کسی ایک لفظ پر نادم نہیں ہوں - یہ جسارت اسلیے کی کہ شاید آپ چند لمحے سوچیں . آپ کو الله نے یہ موقع دیا ہے , آپ اس سے فائدہ لیں .
وسلام
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment