" ہمارا زوال "
ارشاد ربانی:تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کیلئے بھیجھی گئی ہو۔تم نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللّه تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔(آل عمران )
اللہ نے ابلیس کو بہت اعلیٰ مقام دے رکھا تھا اور فرشتوں کی سرداری پر معمور تھا ۔ اسکا تکبر اسے ملعون کر بیٹھا ۔ ہمیں اللہ نے تمام امتوں میں بہترین امت بنایا اور رحمت العالمین کی امت ہونے کا شرف بخشا ۔ ہمیں دوسروں کی بھلائی کرنے کا حکم ہوا ۔ مگر ہم نے سینوں پہ بم باندھ لئے ، زبانوں میں آگ بھر لی ، کسی دوسرے کی عزت و آبرو کو خاک میں ملانے کا ہنر سیکھ لیا ۔ ہم نے شیطان کے انتقام کا شکار ہو کر شیطان کے کام اپنا لئے ۔
ہمارا اعزاز یہ تھا کہ ہم نیکی کی طرف بلانے والی امت تھے ، گمراہوں کو راہ راست پر لانا ، ہمارا امتیاز تھا ۔ مگر ہم نے کیا کرنا تھا ، بھول گئے ۔ ہمارے شعار میں ہونا چاہئے تھا کہ ہم برے کاموں سے روکیں ۔ لیکن ہم نے تمام گناہ کبیرہ و صغیرہ کی راہ از خود اختیار کر لی ۔
اللہ پر ایمان ، اللہ کے احکامات کی تعمیل ، اللہ کے راستے پر عملی زندگی کی بنیاد رکھنے کی بجائے متوازی اور مخالف سمت اختیار کر لی ۔
یہی زوال ہے ۔ آج دنیا کے کونے کونے میں رسوائی ، جس کا دل چاہتا ہے ہمارے گلے میں رسی ڈال لیتا ہے ، جس کے من میں آتا ہے بھیڑوں کی طرح ہانک کر مقتل میں لے جاتا ہے ۔ ہماری بیٹیوں کو جیلوں میں ڈال کر عبرت کی تصویر بنا دیا جاتا ہے ۔ اللہ نے ہمیں امت بنایا ، بہترین امت ۔ مگر ہم گروہ بن گئے ۔ ایک دوسرے کو بد زبانی کرنے والے ، کفر کے فتوے بانٹنے والے ۔ در در سے بھیک مانگنے والے ۔ کفر کی دہلیز پر سجدے کرنے والے ۔ یہی زوال ہے ۔
ہمیں اپنا اعزاز برقرار رکھنا ہے تو وہی کرنا ہو گا ۔ جس کا اللہ نے اعلان فرمایا ۔
ازاد ہاشمی
Saturday, 1 April 2017
ہمارا زوال
ایسے قانون کی توہین لازم ہے
" ایسے قانون کی توہین لازم ہے "
انگریز بہت مکار ذہن کا مالک ہے ۔ ہمیں چند نعمتوں سے نواز گیا ۔ جس کیوجہ سے ہم بحیثیت قوم ایسی سزا بھگت رہے ہیں کہ نہ امن ، نہ خوشحالی ، نہ تحفظ اور نہ کوئی حقوق ۔ قانون ایسا کہ جس میں اگر مجرم صاحب اثر و رسوخ ہے تو اسکا ہر جرم قابل معافی ہے ، خواہ وہ جرم قتل جیسا ہولناک جرم ہی کیوں نہ ہو ۔ اور ایک روٹی کی چوری کا ملزم ، خواہ اس نے وہ روٹی چرائی ہی نہ ہو ، کئی سال جیل میں سڑنا اسکا مقدر بن جائے گا ۔ عدالت کے کمرے میں اونچی آواز میں بات کرنا بھی جرم ۔ جج کتنا ہی بے حیا اور بد کردار کیوں نہ ہو ، ایک لفظ اسکی شان کے خلاف کہنا ، جرم ۔ یہ سب وہ زباں بندی ہے جو حاکم قومیں محکوموں پہ روا رکھتی ہیں ۔ ایسے قانون کی توہین لازم ہے ۔ کیونکہ یہ ہمارا قانون نہ تھا نہ ہے ۔ ہمارا قانون اللہ کا قانون تھا اور اللہ کا قانون ہے ۔ جو عدالتیں عدل نہ دے سکیں انکی توقیر انسانیت کی توہین ہے ۔ حقوق میں تناسب کا تقاضا ہے کہ عدالتیں ہر فرد کو ایک جیسا تصور کریں ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کس بات کا احترام ۔ توہین عدالت کا مرتکب تو وہ جج ہے جو اندھے قانون پر اندھے فیصلے صادر کرتا ہے ۔ ایسا جج خائن ہے اور خیانت کا مرتکب ہے ۔ ایک خیانت کرنے والے کی عزت اور توقیر کیوں ۔ بے قصور کو سزا دینا ظلم ہے اور ظالم کے سامنے جھکنا مذہب سے غداری ہے ۔ کتنے لوگ پھانسی کے پھندوں پہ جھول گئے ، بعد میں پتہ چلا کہ وہ بے قصور تھے ۔ ایسے کتنے بےقصور ہونگے جو جیلوں میں پڑے ہونگے ۔ ایسے کتنے ہیں جو اپنے اثرورسوخ کی بنا پر جرم کر کے بھی آزاد ہیں ۔ کیا پھر بھی ایسے قانون کی عزت لازم ہے ، یا توہین ضروری ہے ۔ سوچیں ۔ شائد نظام میں تبدیلی آجائے ۔
جج صاحبان بھی فکر کریں کیونکہ کل انکی اولاد جج نہیں ہو گی ، یہ قانون ان پر بھی لاگو ہو گا ۔
ازاد ہاشمی
Friday, 31 March 2017
اے مالک ہماری مدد فرما
" اے مالک ہماری مدد فرما "
ہم تیرے بندے ، تیرے حبیب کی امت کے دعویٰ کرتے ہیں ، اپنی اپنی شعوری قابلیت کے مطابق تیری عبادت کرتے ہیں ، تجھے ہی خالق و مالک مانتے ہیں ، تجھے ہی رازق کہتے ہیں ۔ تیرے حکم کی تعمیل نہیں کر پاتے ، اپنے اسباب کی تگ و دو میں جتے رہتے ہیں ۔ ہماری مدد فرما ۔ ہمیں اپنے راستے پر چلنے کی لگن سے بہرہ مند کر دے ۔ ہمیں وہ عفو در گذر عطا فرما ، جو تیری شان ہے ۔ ہمارے نفاق کو باہمی پیار محبت میں بدل دے ۔ ریا اور مطلب کی عبادات کو خضوع و خشوع کے رنگ میں رنگ دے ۔ ان کی محبت عطا کردے ، جن سے تجھے محبت ہے ۔ انکی دشمنی میں رنگ دے ، جن سے تیری دشمنی ہے ۔
فرقوں میں بانٹنے والوں کے پاس دلائل ہیں ، میرا شعور متزلزل ہے ، سچ اور بناوٹ میں فرق مشکل ہو گیا ہے ، اپنی رحمت فرما اور ہم سب کو وہ راہ دکھا دے ، جو تیری رضا کی راہ ہے ۔ ہمارے دلوں کو حقیقت کی طرف موڑ دے ۔ سچ سے شناسا کر دے۔
ہم گناہوں کی گندگی میں آلودہ ہیں ، تیرے حبیب کی امت ہونے کا حق ادا نہیں کر پا رہے ۔ ہمیں ان تمام گناہوں سے دور کر دے ، جس سے امت مسلمہ کی رسوائی ہو رہی ہے ۔ ہماری زندگیوں کو دوسری قوموں کے سامنے اچھی مثال بنا دے ۔ ہمیں ایسی زندگی ، ایسی راہ پر گامزن کر دے ، جو تیری رضا پر ہو ۔ قبول فرما ۔ اے اللہ قبول فرما ۔
ازاد ہاشمی
Thursday, 30 March 2017
الطاف حسین کے نام
" الطاف حسین کے نام "
کئی سال پہلے جب ایم کیو ایم کا ابتدائی دور تھا ۔ آپ سے بالمشافہ ملاقات کے دو تین مواقع ملے ۔ آپکی گفتگو کا انداز ، اپنے نظریے کا اظہار اور مسائل پر گہری نظر کے ساتھ ساتھ ، ان مسائل کا حل آپکی شخصیت کا مظہر تھا ۔ رعونت ، تکبر ، وطن سے بیر کا شائبہ تک نہیں تھا ۔ پھر نہ جانے کیا ہوا ، اچانک گولی کی زبان میں بات ہونے لگی ، لاشیں تحفوں میں بھیجنے کی رسم چل نکلی ۔ گلی کوچے تو الگ گھروں میں بھی عدم تحفظ ہو گیا ۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ نے موروثی سیاست کی کراچی اور حیدرآباد سے جڑیں اکھاڑ دیں ۔ یہ ضرورت تھی ۔ عام سطح کے غریب لڑکے اسمبلیوں میں جا کر غریبوں کی نمائیندگی کرنے لگے ۔ یہ ایک واضع تبدیلی تھی ۔ میرا آپکی جماعت سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ۔ مگر حقیقت یہی تھی جو میں نے کہدی ۔ پھر آپکا لہجہ بھی بدل گیا ، الفاظ بھی شائستگی کی حد سے گرنے لگے ۔ دہونس دھمکی نے آپ کی شخصیت گہنا دی ۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اپنے آغاز کی طرف لوٹ جائیں ۔ اپنے نا اہل مشیروں سے ، جنہوں نے اس راہ پر آپ کو واہ واہ کہا ، چھٹکارا پالیں تو پورے وطن کے لوگ آپ کے ساتھ ہو جائیں گے ۔ اس وقت سیاست کی دنیا میں ، اگر دیانتداری سے دیکھا جائے ، تو صرف تین لوگ اس اہل ہیں ، جو موجودہ اندرونی اور بیرونی مسائل کو حل کر سکتے ۔ جن میں آپ کو فہرست میں پہلا مقام حاصل ہے ۔ الزامات اپنی جگہ پر درست ہیں یا غلط ، اسکی تفصیل بے سود ہے ۔ ایک عام فہم کا ، غیر سیاسی جائزہ یہی ہے ۔ کہ اگر آپ نے کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر ، الفاظ کو تولے بغیر بول دیا تو یہ آپکی قیادت پر ہمیشہ سوال بنا رہے گا ۔ اگر ہو سکے تو قوم کو محبت ، حقائق ، اور مسائل کے حل کرنے والی زبان سے مخاطب کریں ۔ پھر سے ہر پسے ہوئے کی بات کریں ۔ لسانیت کی دیوار کو راستے سے ہٹا دیں ۔ جبر کا شکار کوئی ایک قوم نہیں ، ہر وہ شخص ہے جس کے بازو کمزور ہیں ۔
اے کاش یہ چند جملے آپ تک پہنچ جائیں ، اور آپ چند لمحے سوچیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
کیسا شکوہ
" کیسا شکوہ "
چہرے کے شکن اور رنگت کی زردی گواہ تھی کہ اسکی عمر کس کشاکشی سے گذری ہو گی ۔ مگر چہرے کا سکون اور لہجہ میں ظرافت اسکے حوصلے اور توکل کی عکاس تھی ۔ گذشتہ کئی سال کی شناسائی میں کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے کبھی اللہ سے گلہ کاایک لفظ بھی بولا ہو ۔ جب بھی کہا الحمدوللہ ہی کہا ۔ آج بھی بخار میں تپتا ہوا بدن ، مگر چند سکوں کی تلاش میں ، تاکہ جینے کی ضروریات پوری کر سکے ، وہ پورے انہماک سے مصروف تھا ۔ میں نے طبیعت کا پوچھا ۔ وہی لہجہ وہی اظہار تشکر ۔
" بابا جی ! کبھی اللہ سے شکایت بھی کی ، زندگی میں کبھی تو تھکن ہوتی ہو گی ، کبھی تو احساس مایوسی غالب آتا ہو گا ۔"
بابا جی مسکرائے ۔
" کرتا ہوں ، بہت کرتا ہوں ۔ جب کسی بہکے ہوئے مسلمان کو دیکھتا ہوں ۔ کہتا ہوں اللہ سے ، اے قادر مطلق ، تیرے اختیار میں ہے ، تو اسکا دل بدل سکتا ہے ، کیوں نہیں بدل رہا ۔ اسے اس لذت سے آشنا کیوں نہیں کر رہا ، جس سے اپنے پسندیدہ لوگوں کو کرتا ہے ۔ اپنے لئے کیا مانگوں ، اطمینان کی جس دولت سے اس کریم نے نواز دیا ہے ، اسکے بعد کچھ مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ بیٹا ! دنیا مانگنا کوئی دانشمندی نہیں ، حماقت ہے ۔ میں اور آپ تو مسافر ہیں پھر کیوں حرص و ہوس کی غلامی کریں ۔ کیوں نہ اطمینان سے سفر کاٹیں ۔ یہ دنیا تو ایسی دلدل ہے جس میں گھسنے کے بعد انسان ایسے ڈوبتا ہے کہ بدبودار کیچڑ اسکے گلے میں گھس جاتا ہے ۔ کیا اس دلدل سے بچے رہنے پہ شکر کرنا چاہئے یا شکوہ ۔ بھوک لگتی ہے تو روٹی مل جاتی ہے ، پیاس لگے تو پانی ۔ پھر کیا شکوہ کروں رب سے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ بیماری تو گناہوں کا بوجھ کم کرتی ہے ، پھر بیماری کا گلہ کیوں کروں ۔ "
بابا جی کی انوکھی منطق کو کیا نام دیا جائے ۔ لگتا ہے وہ ٹھیک کہتے ہیں ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے اطمینان قلب ممکن ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
کراچی کے دکھ
" کراچی کے دکھ "
پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ، کماو پتر اور غریب پرور شہر ۔ ہر وہ مایوس ، جسے پیٹ بھرنے کیلئے کہیں اور پناہ نہیں ملا کرتی تھی ، اسے کراچی اپنے سینے سے لگا لینے والاشہر ۔ راتیں بھی جاگا کرتی تھیں دن بھی ۔ یہ کوئی پرانے زمانوں کی بات نہیں ، قریب کی باتیں ہیں ۔کراچی کا دامن ہمیشہ وسیع رہا ۔ یہی کشادہ دلی تھی کہ کروڑوں لوگوں کی آباد دنیا کا شہر بن گیا ۔
سب کو یاد ہے کہ تحریکیں بنتی رہیں ، مگر لوگوں کے دل پھر بھی ایک ساتھ دھڑکتے تھے ۔ ایک ہی نگر میں بسنے والے کبھی کبھار الجھا بھی کرتے ہیں ، آپس میں شکایات بھی ہوا کرتی ہیں ۔ کچھ ایسی ہی فضا کراچی کی بھی بننے لگی ۔ بات بڑھتی رہی ، تاک میں بیٹھا شیطان ، اس چنگاری کو آگ کا الاو بنانے پر تل گیا ۔ گلیوں ، سڑکوں ، بازاروں ، عبادت گاہوں ، جگہ جگہ خون بہنے لگا ۔
حل ڈہونڈھنے کے نا اہل اور ناعاقبت اندیش ذمہ داروں کو آسان لگا ، کہ کسی ایک کے گلے میں اس آگ کی ذمہ داری ڈالو اور بس ۔
جذباتی لوگ اکثر ایسی حماقتیں کرتے ہیں ، کہ مجرم نہ ہوتے ہوئے مجرم بن جاتے ہیں ۔ اصل مجرم چوکنا ہوتا ہے آسانی سے رخ بدل لیتا ہے ۔ شاید ایسا ہی کچھ کراچی میں ہو گیا ۔ مجرم کا وار کارگر تھا ، شہر کی رونقیں اداسی میں بدل گیئں ۔ پھر بھی کوئی محب وطن شہری ، لیڈر ، افسر ، سیاستدان ، تاجر ، محافظ یا دانشور آگے نہیں بڑھا کہ ناراض بچوں کو سنے ، بگڑے ہیں تو سمجھاے ، روٹھے ہیں تو منائے ، گلے سے لگا کے انکے دکھ سنے ۔ اور مداوا کرے ، شاید کسی کو بھی حل سے دلچسپی نہیں ۔ شاید کوئی نہیں چاہتا کہ کراچی پھر رونقیں بانٹنے لگے ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
کراچی تو مجرم نہیں
" کراچی مجرم نہیں "
کسی حقدار کو اسکا حق نہ دینا جبر ہے - جبر کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے اور ایک مخصوص عمر ۔ کراچی کے در و دیوار ، گلی کوچے ، باغیچےاور پارک ، حتیٰ کہ شہریوں کے چہروں کی زرد رنگت ، ایک ویرانی کی داستان لگتی ہے ۔ آخر وہ کونسا جرم ہے جو اس شہر سے اور اسکے مکینوں سے ہو گیا ۔ یہی نہ کہ یہاں کے کچھ لوگوں نے اپنے بچوں کا مستقبل مانگ لیا تھا ۔ اس میں کیا برائی تھی ۔ اس وطن کے ہر باسی کو اسکا بنیادی حق ملنا چاہئے ۔ یہ وطن کسی کی جاگیر نہیں ، پھر کیوں کچھ لوگ ہاتھ میں ڈنڈا اٹھائے رکھتے ہیں ، کہ جس کو چاہا مذھبی پابندی لگادی ، جس کوچاہا لسانی گروہ بنا ڈالا ، جس کو چاہا میرٹ دبا دیا ، جس کو چاہا غداری کا طوق پہنادیا ۔
آج کے کتنے غدار ہیں ، جنہوں نے حقوق مانگنے سے پہلے بغاوت کی آواز بلند کر دی ۔ حقوق مانگنے والے کو حقوق نہیں دو گے ، تو وہ کیا کرے گا ۔ احتجاج کرےگا ، احتجاج پہ تشدد ہوگا تو وہ دفاع کرے گا ، دفاع پر طاقت استعمال کرو گے تو وہ باغی ہو جائے گا ۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے ۔
کراچی میں کتنے لوگ ہیں ، جو باغی ہوئے ۔ کیا تناسب ہو گاان لوگوں کا ۔ پھر پورے شہر کو سزا کیوں ۔
زبان تو اظہار کا طریقہ ہوا کرتا ہے ، پھراسے سیاسی شناخت کی کیا ضرورت تھی ۔ کراچی مجرم نہیں ، اسے سزا مت دو ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جنکوغدار بنایا جا رہا ہو ، انکے دل اب بھی اسی وطن کے لئے دھڑکتے ہوں ۔ اگر ایسا ہے تو انہیں پھر سےقومی گلدستے میں سجا دو ۔
اپنی طاقت دشمن کے ہاتھ میں مت جانے دو ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
کرپشن کے ثبوت نہیں ہوتے
" کرپشن کے ثبوت "
سیاسی لوگ عقلمند ، شاطر ، ذہین اور پلانر اسلئے ہوتے ہیں ، کیونکہ عوام احمق ہوتی ہے ۔ عوام میں فیصلہ کرنے کی اہلیت کا فقدان ، ایسی خرابی ہے جو تمام شاطروں کی چالوں کو کامیاب کرتی ہے ۔ کچھ عرصے سے ایک نیا کھیل شروع ہوا ہے ، وہ ہے سیاستدانوں کی کرپشن کے ثبوت ۔ ہماری سادگی کی انتہا ہے ، ہم سمجھے بیٹھے ہیں کہ اب ثبوت بھی مل جائیں گے اور عوام احتساب ہوتا بھی دیکھے گی ۔ ہم ابھی تک یہی فیصلہ نہیں کر پائے کہ کرپشن کی حدود کیا ہیں ۔ پھر ثبوت کیسے مل سکے گا ۔ کرپشن کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ ایسی تمام مراعات سے مستفید ہونا ، جو خدمات سے تجاوز کریں ، کرپشن ہے ۔ ہمارا ہر اسمبلی کا رکن ، ہر بیورو کریٹ ، ہر ادارے کا اعلیٰ افسر ، تمام ارباب اختیار اس کرپشن کا حصہ ہیں - ملکی وسائل کا ذاتی استعمال کرپشن ہے ۔ اپنے فرائض سے پہلو تہی کرپشن ہے ۔
سادگی کی انتہا ہے کہ ہم ملکی وسائل سے لوٹی ہوئی دولت کے ثبوت ڈھونڈھنے نکلے ہیں ۔ لوٹی ہوئی ، چوری کی ہوئی ، غبن کردہ دولت نہ تو بنکوں سے جاتی ہے ، نہ کوئی رسید ہوتی ہے ، نہ کوئی دوسری دستاویز ۔ بریف کیسوں میں جانے والی رقوم ، ملکی ترقیاتی سکیموں پہ حاصل کیے جانے والے کمیشن اور کک بیک ثبوت سے خالی ہوتے ہیں ۔ایسے لگتا ہے ، تمام عدالتی اہلکار ، خفیہ تحقیقاتی ادارے ، سیاستدان اور میڈیا کے دانشور عوام نام کی مخلوق کو وہ خواب دکھا رہے ہیں ، یا ذہین ڈاکٹروں کی طرح مرنے والے مریض کو تسلیاں دے رہے ہیں ۔ اچھی طرح جان لیں ، کرپشن کے ثبوت کبھی نہیں ملا کرتے ۔ لوٹی ہوئی دولت کبھی واپس نہیں آتی ۔ قوم اگر مخلص ہے ، تو صرف ایک کام کرے کہ وہ راستہ اختیار کر لے جو ان تمام مسائل کا حل ہے ۔ اور وہ ہے نظام اسلام ۔ باقی سب کہانی ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
سیاست میں اخلاقی پستی
" سیاست میں اخلاقی پستی "
ہم سمجھتے تھے کہ سیاست میں جو لچر پن ہمارے وطن کا معمول بن گیا ہے ، وہ کہیں اور نہیں ۔ مگر جب امریکہ کے صدارتی امیدواروں کو ایک دوسرے کے سامنے ناچتے دیکھا ، تو ایسے لگا کہ سیاست کا تہذیب سے کوئی رشتہ ہی نہیں ۔
ماضی میں گلی محلوں کے غنڈوں کا لب و لہجہ ، عادات اور اخلاق باختہ طرز تکلم نا پسندیدہ ہوا کرتا تھا ، آج یہ انداز ہمارے بڑے بڑے لیڈروں نے اختیار کر رکھا ہے ، سیاسی کارکنان اپنے مخالفین کی عزت و آبرو کو میڈیا پر اچھال رہے ہیں ۔ مخالف سیاستدان کی بہن بیٹی پر طعنہ زنی عام ہے ۔
غور کریں تو ایسے لگتا ہے کہ سیاست سے وابستہ اکثریت اخلاقیات نام کی کسی بھی شے سے اگاہ ہی نہیں ۔
ایک با شعور شہری کو فکر کرنا چاہئے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اپنی تقدیر دینے جا رہے ہیں ، وہ کس قماش کے لوگ ہیں ۔ اور ہماری نسلوں کو کس گڑھے میں ڈبویئں گے ۔
نہ صرف یہ کہ سیاسی میدان گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے ، ہمارے دانشور ، میڈیا کے کرتا دھرتا ، صحافت سے منسلک لوگ ، حتیٰ کہ مذہب سے وابستہ وہ تمام لوگ بھی اسی رنگ ڈھنگ کا شکار نظر آتے ہیں ، جنہوں نے اپنے آپ کو سیاست سے جوڑ رکھا ہے ۔
اگر ہمیں اپنی نسلوں کا مستقبل عزیز ہے تو ان اخلاق باختہ لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
بیویوں کی برکتیں
" بیویوں کی برکتیں "
ہم بہت ساری نعمتوں کے ظاہری ذائقے اور اثرات سے واقف ہوتے ہیں ، مگر انکے فوائد سے اگاہ نہیں ہوتے ۔ عموماً صحت کیلئے کڑوی دوا زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔ چینی میٹھی ہوتی ہےمگر کثرت سے استعمال نقصان کا باعث ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ کی نعمت ، جس سے کم عقل شوہر اکثر شاقی ہوتے ہیں ، وہ ہے بیوی - حالانکہ بیوی کی موجودگی میں زندگی میں ڈھیروں تبدیلیاں آجاتی ہیں ۔ انسان سلیقہ شعار ہو جاتا ہے ، گھر کے بیشتر کام کاج سیکھ لیتا ہے ۔ وقت پر سونا ، جاگنا ، چائے بنا کر دینا ، گھر کی ضروری صفائی کرتے رہنا وغیرہ وغیرہ ۔ فوج کا سا ڈسپلن آجاتا ہے ۔ ایک خوف کہ نہ جانے کونسی خطا پکڑی جائے ، سر پہ سوار رہنے سے اللہ بھی یاد رہنے لگتا ہے ۔ بڑے سے بڑا نظر باز بھی نظریں جھکا کے چلتا ہے ۔ میرے کچھ دوست شادی کے بعد تبلیغی ہو جاتے ہیں اور اللہ کے دین کی خدمت میں مہینوں نکل پڑتے ہیں ۔ یہ بیوی ہے جس کی طفیل یہ راہ مل جاتی ہے ۔ بیوی کی موجودگی فضول خرچی سے روکتی ہے کیونکہ جیب ہمیشہ خالی رہتی ہے ، اسلئے فضول خرچی تو دور کی بات خرچی کی نوبت بھی کم ہی آتی ہے ۔یہ وہ ہستی ہے جس کے خوف کے سبب دن میں کئی کئی بار اللہ بھی یاد آتا ہے ، ماں بھی اور کئی کئی بار اللہ کی پناہ مانگنی پڑتی ہے ۔ ایسی بے شمار نیکیاں خود بخود ہو جاتی ہیں ، جو بیگمات سے محروم مردوں کو نصیب نہیں ہوتیں ۔ دشمن کے لئے بھی دعا نکلتی ہے کہ اللہ اسےبھی اسی نعمت سے نوازے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
اقبال اور ہم
" اقبال اور ہم "
علم اللہ کے انعامات میں سب سے افضل ہے ۔ اور اس علم کا مثبت استعمال عبادت بھی ہے اور جہاد بھی ۔ اقبال اس شخص کا نام ہے ، جسے اللہ نے علم کے زیور سے نوازا بھی اور ایک قوم کی آزادی کی تحریک کرنے کی توفیق بھی دی ۔ ہم احسان فراموش قوم ، اپنے محسنوں کو بھول جانے کے ماہر ہیں ۔ ہمیں اپنے ارباب فکر و دانش سے لگاو نہیں رہتا ، دوسروں کے افکار و خیالات ایمان کی حد تک لے جاتے ہیں ۔ یوم اقبال سے زیادہ دیوالی ، بسنت اور ہولی اچھی لگتی ہے ۔
حقیقت میں ہم لوگ شعور کے دشمن ہیں ۔ تعجب تو یہ ہے کہ اگر کوئی دو چار اچھے شعر کہہ لیتا ہے وہ بھی اقبال کی شاعری پر تنقید کرنے لگتا ہے ۔ حالانکہ اقبال نے جو بھی لکھا وہ ایک پیغام لکھا ، ایک آگہی لکھی ، ایک جذبہ لکھا ، ایک ولولہ لکھا ۔ قوم کو زندہ رہنے کی راہ دکھائی ، حریت کو بیداری دی ، لکنت زدہ زبان کو بولنے کا ہنر سکھایا ، وطن کی ضرورت سے آشنائی دی ، کفر سے تفریق سکھائی ۔ ایسی ہستی کو صرف شاعر سمجھ لینا ، احسان فراموشی کی انتہا ہے ۔
علم و فہم کا یہ چراغ اپنی مثال آپ ہے ۔ ہمیں اس روشنی کو جلائے رکھنا چاہئے ، اپنے لیے بھی اپنی نسلوں کے لئے بھی ۔ ایسے لوگ کسی بھی قوم کا فخر ہوتے ہیں ۔
اقبال کو زندہ رکھنا ہو گا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
مانگنے والے ہاتھ اور ہم
" مانگنے والے ہاتھ اور ہم "
آئیے مل کر سوچتے ہیں اور اپنے اپنے مواخذے سے آغاز فکر کرتے ہیں ۔ سوچتے ہیں کہ ہمارے ہی جیسے گوشت پوست کے بہت سارے انسانوں کی زبوں حالی کا سبب کیا ہے اور تدارک کیا ۔ اپنے بچوں کے سامنے ان بچوں کو بٹھا کے دیکھتے ہیں کہ وہ کونسی چیز ان بچوں کو نصیب نہیں ، جو گلیوں اور بازاروں میں بھیک مانگتے ہیں ، جو کچرا خانوں سے خوراک کے ٹکڑے تلاش کرتے پھرتے ہیں ، جو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔ آخر کیا فرق ہے ان بچوں اور ہمارے بچوں میں ۔ ہمارے سینے میں ان کی بے بسی کو دیکھ کر وہ درد کیوں نہیں ہوتا جو اپنے بچوں کی تکلیف ہہ ہوتا ہے ۔ کسی مانگنے والے ہاتھ پہ چند سکے رکھ دینا کونسی سخاوت ہے ، کونسی ہمدردی ہے ۔ اصل سخاوت تو یہ ہے کہ ہم ان مانگنے والے ہاتھوں کو اسباب فراہم کریں کہ یہ بھی ہماری طرح معاشرے میں رہیں ۔ اپنی آسائشوں سے ہاتھ روک کر سوچا جائے تو ازالہ نہایت آسان ہے ۔ کتنے ہیں یہ لوگ ، معاشرے میں انکا تناسب کیا یے ، اگر سیاسی پنڈت ، صنعتکار ، سماج کی خدمت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے سماجی لوگ ، میں اور آپ ، سچائی سے سوچ لیں ، ارادہ باندھ لیں تو ہر مانگنے والا ہاتھ آنے والے وقت میں دینے والا ہاتھ ہو گا ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ میرا اور آپکا امتحان ہو ۔
اگر انفرادی طور پہ نہیں تو اپنے احباب کے ساتھ ملکر مثبت انداز سے متحرک ہوا جائے کہ ہر مانگنے والے کے لئے وسائل بنائے جائیں ، نہ کہ چند سکے بانٹ کر اجر کی تلاش کی جائے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
کربلا کہانی نہیں درس ہے
" کربلا کہانی نہیں درس ہے "
صدیاں گذر گئیں ، ایک امام نے کربلا کی ریت پر اپنے خون سے ایک تحریر لکھی ۔ ایسی تحریر جو نہ کوئی پہلے لکھ سکا نہ بعد میں لکھ سکے گا ۔یہ ایک درس تھا ،
حسینیت کا درس ۔ یہ ایک آواز تھی ہر وقت کی یزیدیت کے خلاف ۔ یہ ایک اعلان تھا عملی جہاد کا ۔ یہ ایک معرکہ تھا اللہ کے دین کی خاطر ۔ ایک رہنمائی تھی منافقت پرکھنے کی ۔ اللہ کی تکبیر کی صدا بلند کرنے کی لگن تھی ۔ جنگ تھی خبائث کے خلاف ۔
امام کی آواز ، ہر کان سنتا رہا ، سنتا رہے گا ۔
ہم اس درس کو اپنا لیتے تو یزیدیت کب کی دفن ہو چکی ہوتی ۔ ہم اس درس کی زبان سمجھنے کی کوشش کرتے تو ہر راہ آسان ہو جاتی ۔
ہم نے عظیم درس کو کہانی تک محدود کر لیا ، درس امام کو جاننے ، سمجھنے اور اپنانے سے گریزاں رہے ۔ آج کا یزید اسی لیے منہ زور ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
عدل ایک خواب
" عدل ایک خواب "
ہم ایک ایسے دیس کے باسی ہیں ۔ جس دیس کے قانون کو اندھا کہا جاتا ہے ، جج بہرے ہیں کوئی بھی دلیل نہیں سن سکتے , وکیل گونگے ہیں حق بولنے سے قطعی قاصر ہیں ۔ رہ گئے عدل ڈھونڈھنے والے سائل ، تو وہ ہمیشہ سے بے بس ہیں ۔
عدل اور انصاف زندہ لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے ۔ جو حالات و واقعات سے کبھی مصالحت نہیں کرتے ، اپنے حقوق پر کبھی سودا نہیں کرتے ۔ جنکا قانون ان کے اپنے مسائل سے ہم آہنگ ہوتا ہے ۔ جو اپنی راہ کے تعین میں آزاد ہوتے ہیں ۔
ہمارا قانون ایک حاکم قوم کا محکوم قوم کے نام لکھا ہوا راہ عمل ہے ۔ ابہام سے بھرا ہوا یہ قانون وکیل کی چالاکی کا محتاج رہتا ہے ۔ جج کو صوابدیدی اختیارات دینے والے قانون کا موثر ہونا کیسے ممکن ہے ۔ نظریہ ضرورت پر چلنے والے فیصلے کبھی عدل نہیں ہوا کرتے ۔ جہاں جج " می لارڈ " بنا بیٹھا ہو ، وہاں عدل عبث ہوتا ہے ۔
کس قدر مضحکہ خیز انداز فکر ہے کہ ہم ایسے حالات میں بھی عدالتوں سے مثبت فیصلوں کی امیدیں جوڑے بیٹھے ہیں ۔
اپنے فیصلوں کے لئے اپنا قانون ہوگا ، جج خود کو اللہ کے سامنے جوابدہ سمجھے گا ، وکیل حق کی قبر کھودنا چھوڑے گا اور سائل حق شناسا ہو گا تو پھر عدل بھی ہو گا ، ظلم بھی رکے گا ۔
بولنا ہو گا گونگی قوم کو ، وگرنہ جرم کی حکمرانی ماننا پڑے گی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی