" عدل ایک خواب "
ہم ایک ایسے دیس کے باسی ہیں ۔ جس دیس کے قانون کو اندھا کہا جاتا ہے ، جج بہرے ہیں کوئی بھی دلیل نہیں سن سکتے , وکیل گونگے ہیں حق بولنے سے قطعی قاصر ہیں ۔ رہ گئے عدل ڈھونڈھنے والے سائل ، تو وہ ہمیشہ سے بے بس ہیں ۔
عدل اور انصاف زندہ لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے ۔ جو حالات و واقعات سے کبھی مصالحت نہیں کرتے ، اپنے حقوق پر کبھی سودا نہیں کرتے ۔ جنکا قانون ان کے اپنے مسائل سے ہم آہنگ ہوتا ہے ۔ جو اپنی راہ کے تعین میں آزاد ہوتے ہیں ۔
ہمارا قانون ایک حاکم قوم کا محکوم قوم کے نام لکھا ہوا راہ عمل ہے ۔ ابہام سے بھرا ہوا یہ قانون وکیل کی چالاکی کا محتاج رہتا ہے ۔ جج کو صوابدیدی اختیارات دینے والے قانون کا موثر ہونا کیسے ممکن ہے ۔ نظریہ ضرورت پر چلنے والے فیصلے کبھی عدل نہیں ہوا کرتے ۔ جہاں جج " می لارڈ " بنا بیٹھا ہو ، وہاں عدل عبث ہوتا ہے ۔
کس قدر مضحکہ خیز انداز فکر ہے کہ ہم ایسے حالات میں بھی عدالتوں سے مثبت فیصلوں کی امیدیں جوڑے بیٹھے ہیں ۔
اپنے فیصلوں کے لئے اپنا قانون ہوگا ، جج خود کو اللہ کے سامنے جوابدہ سمجھے گا ، وکیل حق کی قبر کھودنا چھوڑے گا اور سائل حق شناسا ہو گا تو پھر عدل بھی ہو گا ، ظلم بھی رکے گا ۔
بولنا ہو گا گونگی قوم کو ، وگرنہ جرم کی حکمرانی ماننا پڑے گی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
عدل ایک خواب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment