شدید بارش کے سبب اکیلے گاڑی کو سڑک پر لانا رسک تھا - سامنے کھڑی ٹیکسی لینا بہتر تھا -
"ماڈل کالونی چلو گے -"
وہ راضی تھا -
" کتنے پیسے لو گے -" میں نے بہتر جانا کہ پوچھ لوں , گھر پہنچ کر جھگڑے سے بہتر تھا -
" جو دل کرے دے دینا باؤ جی "
" پھر بھی "
" باؤ جی ایک بات کہوں برا مت ماننا - میں ایک جاہل آدمی ہوں - سکول نہیں گیا - پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے , وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے - توکل اسی کا نام ہے "
اس کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں - ٹیکسی ابھی تھوڑا آگے گئی کہ مسجد دکھائی دی -
" باؤ جی - الله کو سجدہ کر لوں پھر آگے چلتے ہیں " اس نے میری راۓ نہیں پوچھی اور ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ دی -
" آپ نماز ادا کریں گے "
مجھ سے یہ سوال اسکا حق تھا -
" کس مسلک کی مسجد ہے یہ " میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا -
" باؤ جی ! مسلک سے کیا لینا دینا - یہ ملاؤں کے دھندھے ہیں - ہاتھ ناف پہ رکھو , سینے پہ رکھو یا ہاتھ کھول کے نماز پڑھو - سجدہ سب ایک سا ہی کرتے ہیں - اصل بات سجدے کی ہے - الله کے سامنے جھکنے کی ہے - یہ الله کا گھر ہے - آپ الله کو سجدہ کرنے جا رہے ہو "
میرے پاس کوئی عذر باقی نہیں تھا - نماز سے فارغ ہوۓ اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے - میں بادل کی گرج چمک سے گھبرا رہا تھا اسے کوئی فکر نہیں تھی -
" باؤ جی , آپ نماز با قاعدگی سے ادا کرتے ہیں "
اس کا ہر سوال میرا امتحان تھا -
" کبھی پڑھ لیتا ہوں , کبھی غفلت ہو جاتی ہے " یہی سچ تھا -
" جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہو گئی اور نہیں ہونی چاہیۓ "
" معاف کرنا , یہ ذاتی سوال نہیں - اگر احساس ہوتا ہے تو الله ایک دن آپ کو ضرور نمازی بنا دے گا - اگر احساس نہیں ہوتا تو ----"
وہ خاموش ہو گیا - اسکی خاموشی مجھے کاٹنے لگی -
" تو کیا " میرا لہجہ بدل گیا -
" اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں "
" ہاں بولیں "
" اگر غفلت کا احساس نہیں ہو رہا تو اپنے آمدن کے وسائل پر غور کریں - اور اپنے الله سے معافی مانگیں , الله آپ سے راضی نہیں "
ہم منزل پہ آ چکے تھے - میں نے اسکے توکل کی حقیقت جاننے کی لئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا , اس نے بسم الله کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا - میں نے آواز دی , وہ رک گیا -
" حکم باؤ جی "
" تم ان پیسوں میں خوش ہو "
" جی , مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہو گا - الله نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا "
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے - میں نے جیب سے مزید دو سو نکالے اور اسے دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا - وہ مسکرایا -
" باؤ جی , دیکھا آپ نے - میرا حق پچاس روپے تھا , اور الله کے توکل نے مجھے دو سو دیا "
وہ چلا گیا , میرے ایمان کو جھنجھوڑ کر -
آزاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
اصل توکل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment