Wednesday, 29 March 2017

ماں یاد آتی ہے

" ماں یاد آتی ہے "
پارک کے کونے میں ، معصوم سا بچہ گم سم بیٹھا ، ایک ہی سمت میں ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا تھا ۔ نہ بچوں والی شرارت ، نہ جھولوں سے دلچسپی ، نہ لوگوں سے کوئی تعلق ۔  اس عمر میں یہ سکوت عجیب سا لگتا ہے ۔ میرے دل میں ایک بے نام سی کشش ، مجھے بچے کی طرف کھینچ رہی تھی ۔ جیسے ہی میں اسکے پاس پہنچا ، بچے نے نہایت ادب سے سلام کہا اور بنچ کی ایک طرف کھسک گیا ۔
" کیا بات ہے بیٹا ، کچھ گم ہو گیا ہے جو اتنے اداس بیٹھے ہو "
میں نے پوچھا ۔ بچہ خاموشی سے میری طرف دیکھنے لگا ۔ میں نے پھر اپنا سوال دھرایا ۔ تو بچے بے بلک بلک کر رونا شروع کر دیا ۔ اسکے رونے میں جو درد تھا ، آنسووں کی بارش میں جو سیلابی کیفیت تھی ۔ اپنی کہانی کہہ رہی تھی ۔
" لوگ کہتے ہیں ، میری ماں کو اللہ نے بلا لیا ہے ۔ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، اللہ پاک تو بہت اچھے ہیں ، کسی بھی بچے کی ماں کو نہیں بلاتے ۔ یہ مائیں بچوں سے ناراض ہو کر خود مر جاتی ہیں ۔ میری ماں مر گئی ہیں انکل ۔ میں ضد کرتا تھا ، بہنوں سے لڑائی کرتا تھا ۔ بس وہ میری وجہ سے مر گئی ہیں "
" ماوں کو اتنا غصہ نہیں کرنا چاہئے نا ۔ انکو تو پتہ ہوتا ہے نا کہ بچے انکے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ پھر یہ مرنے پر کیوں تیار ہو جاتی ہیں ۔ اللہ سے پوچھا ہے کہ اس نے میری ماں کیوں بلا لیا ۔ کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتا ، میری منی بھی روتی ہے ، آپی بھی ۔ ماں ہوتی تھی تو وہ نہیں روتی تھیں "
" آپ کیوں رو رہے ہیں انکل ۔ آپ کی ماں بھی مر گئیں کیا ۔ آپ بھی ضد کرتے تھے ۔  آپ تو بڑھے ہو گئے ہیں ، میں تو چھوٹا ہوں "
معصوم سی سوچ کا ایک ایک لفظ میری روح کو چیر رہا تھا ۔ 
میں نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔
" بیٹا جس کی بھی ماں مر جائے ، وہی چھوٹا ہو جاتا ہے - تم بھی رو لو ،  مجھے بھی رو لینے دو "
شکریہ
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment