" جرنیل اور جنگیں "
محاذ جنگ پر ہر سپاہی ایک لافانی جذبے سے سرشار ہوتا ہے ۔ اسے نہ سینے پہ سجانے کو تمغوں کی آس ہوتی ہے ، نہ کسی دوسری ستائش کی ۔ وہ خلوص نیت سے میدان میں اترتا ہے ، فتح یا شہادت کےلئے ۔ کوئی سپاہی اپنے مادر وطن کے لئے شکست کا داغ پسند نہیں کرتا ۔ تصور بھی نہیں کرتا کہ دشمن سے ہار ہوگی ۔ اگر کسی نے جنگ کی برستی آگ میں ایک سپاہی کے جذبے کا مشاہدہ کیا ہو ، تو وہ میری رائے سے یقیناً اتفاق کرے گا ، کہ جنگوں میں شکست کے اسباب جرنیلوں کے روئیے ہوتے ہیں ۔ سپاہیوں کی کمزوری نہیں ۔ جب تک جرنیل پیشے اور قوم سے مخلص رہتا ہے ، قوت اور طاقت برقرار رہتی ہے ۔ اور جب مصلحت , سیاست ، مفادات ، بیرونی اثر قبول کر لیتا ہے ، تو قوم کیلئے شکست کی راہ کھول دیتا ہے ۔ پھر جیتی ہوئی جنگ بھی شکست بن جاتی ہے ۔ بد قسمتی کا یہ پہلو ، مسلمانوں کے ساتھ اکثر دھرایا جاتا ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ سپاہیوں کی جیت کو ہار میں جرنیل ہی بدلتا ۔ تو قطعی غلط نہیں ہو گا ۔ ہمارے وطن میں جرنیل کا انتخاب کچھ اس انداز سے ہو رہا کہ ملک دشمن سیاستدان ایسے جرنیل کو سربراہی دیتے ہیں ، جو انکے اشاروں پہ چلنے والا ہو ۔ یہ وہ قباحت ہے جو قومی سلامتی کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔
شکریه
ازاد ھاشمی
Wednesday, 29 March 2017
جرنیل اور جنگیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment