"جنگ کے دوسرے میدان "
ہمارا قومی جذبہ جنگ کے لئے جس طرح بیدار ہوتا ہے اور ہر شہری ہاتھ میں چھری اٹھائے شہادت کے لئے محاذ جنگ کی طرف بستر باندھے نظر آتا ہے ۔ یہ فریفتگی وطن کی مٹی سے لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ اللہ سلامت رکھے ۔
مگر جنگیں ہوش مانگتی ہیں جوش نہیں ۔ وسائل مانگتی ہیں بڑھکیں نہیں ۔ وہ قومیں جنگوں سے مثبت نتائج لیتی ہیں جن کے لیڈر وطن سے مخلص ہوتے ہیں ، وہ قومیں جنگیں کیا لڑیں گی جن کے لیڈر وطن کو لوٹ رہے ہوں اور عوام تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہوں ۔
یہ بھی ایک محاذ ہے ، اٹھو اس محاذ پر جنگ سر پر مسلط ہے ۔ اسے جیت لو تو دوسرا محاذ منتخب کر لو ۔
اپنے گھر میں موجود خلفشار ختم کرو تاکہ کوئی دوسری مکتی باہنی نہ بنے ۔ یہ بھی ایک محاذ ہے ۔
بنیا بزدل بھی ہے اور پیٹھ پہ وار کرنے میں ماہر بھی ۔ وہ جب سے پاکستان بنا اس ارادے پر کام کر رہا ہے کہ اکھنڈ بھارت بنا کر ریے گا ۔
ہم اپنے گھر میں زبان ، علاقہ اور مسالک کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں ۔ اتفاق اور اتحاد جنگ جیتنے کا کارگر ہتھیار ہے ، اور ہم اس سے خالی ہیں ۔
ہم کشمیر چھیننے کے نعرے لگاتے رہتے ہیں اس نے دریاؤں کا پانی بھی روک لیا ہے ۔ اس نے ہماری خارجہ پالیسی کو بیکار کر کے رکھ دیا ، ہمیں بین القوامی منڈیوں سے نکال بایر کر دیا ۔ ہمارے کتنے لیڈر ہیں جو بنئے کی زبان بولتے ہیں ، اور اسکے ارادوں کو تقویت دیتے ہیں ۔ کیا ان محاذوں کو خالی چھوڑ دینا ، شکست کی مضبوط اساس نہیں ۔
جنگ کی صورت میں فوجیوں کو بسکٹ ، چنے اور سگریٹ بھیج کر کونسی وطن کی خدمت ہو جائے گی ۔ ایک عام شہری کا جذبہ کس محاذ پر کام آئے گا ۔ ایک با شعور اور محب وطن قوم ہونے کا اصل ثبوت یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے محاذ پورے خلوص ، سچائی اور پوری لگن سے ڈٹ جائیں ۔
دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، قوموں کے حقیقی جذبوں سے مرعوب ہوتا ہے ۔ نعرے اور بڑھکوں سے نہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
جنگ کے دوسرے میدان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment