بسم الله الرحمن الرحیم-
عرب اپنی روایات سے جنون کی حد تک وابستہ تھے - جہالت نے انسانی سوچ پہ تکبر , آنا پرستی , انتقام اور شہوت کی دبیز تہہ جما رکھی تھی -
الله کی ذات کو بھول کر پتھر , لکڑی اور مٹی کے بت پرستش کے لئے منتخب کر لئے گئے تھے -
اخلاقیات ختم ہو چکی تھیں - عورت ایک شہوانی کھلونے کے سوا کچھ نہیں تھی -
عرب ہمیشہ ایک سرکش قوم رہی ہے - ضد اور ہٹ دھرمی ایک عمومی عادت تھی - اور اس عادت پہ فخر معمول کی بات تھی -
جب کسی سے ملتے تو اپنی پہچان کے لئے اپنے بت کا نام لیتے اور پھر اپنے قبیلے کی شناخت کراتے , پھر اپنے جد و اجداد کا ذکر کرتے -
اسلام نے جہاں بہت ساری روایات کو تبدیل کیا , وہاں تعارف کے طور پہ بسم الله کا اعلان بھی کیا -
جو پیغام بسم الله میں تھا وہ کسی بھی قبیلے کے پاس نہیں تھا - یہ اعزاز صرف مسلمانوں کو ملا , کہ وہ کہہ سکتے , کہ جس نام سے ہم وابستہ ہیں , وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی - یہ دو ایسی خوبیاں جو کسی ایک ذات میں ہو نہیں سکتیں سواۓ الله کے -
صرف الله ہے جو ہر اس پہ رحم کرتا ہے , جو اسکی مکمل اطاعت کرے اور اس پر بھی جو سرکش ہو - زندگی کی اہم ضروریات سب کے لئے یکساں ہیں -
الله کی ذات کی دونوں صفات ایسی ہیں , جس کے جواب میں کسی بت کا نام نہیں لیا جا سکتا تھا -
اسلام کے یہ چند الفاظ , فصاحت میں بے مثل تھے - جن سے عرب کے بہت سارے خود سر لا جواب تھے -
گویا بسم الله اسلام کے تعارف کا اظہار بھی ہے , الله کی شان کا اعلان بھی , ایمان کی گواہی بھی , الله کی رضا کا راستہ بھی اور اپنے روز مرہ کے امور میں برکت بھی -
آئیے ! اپنے معمولات زندگی میں اسکو آغاز بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
بسم اللہ اور عرب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment