" اقبال اور ہم "
علم اللہ کے انعامات میں سب سے افضل ہے ۔ اور اس علم کا مثبت استعمال عبادت بھی ہے اور جہاد بھی ۔ اقبال اس شخص کا نام ہے ، جسے اللہ نے علم کے زیور سے نوازا بھی اور ایک قوم کی آزادی کی تحریک کرنے کی توفیق بھی دی ۔ ہم احسان فراموش قوم ، اپنے محسنوں کو بھول جانے کے ماہر ہیں ۔ ہمیں اپنے ارباب فکر و دانش سے لگاو نہیں رہتا ، دوسروں کے افکار و خیالات ایمان کی حد تک لے جاتے ہیں ۔ یوم اقبال سے زیادہ دیوالی ، بسنت اور ہولی اچھی لگتی ہے ۔
حقیقت میں ہم لوگ شعور کے دشمن ہیں ۔ تعجب تو یہ ہے کہ اگر کوئی دو چار اچھے شعر کہہ لیتا ہے وہ بھی اقبال کی شاعری پر تنقید کرنے لگتا ہے ۔ حالانکہ اقبال نے جو بھی لکھا وہ ایک پیغام لکھا ، ایک آگہی لکھی ، ایک جذبہ لکھا ، ایک ولولہ لکھا ۔ قوم کو زندہ رہنے کی راہ دکھائی ، حریت کو بیداری دی ، لکنت زدہ زبان کو بولنے کا ہنر سکھایا ، وطن کی ضرورت سے آشنائی دی ، کفر سے تفریق سکھائی ۔ ایسی ہستی کو صرف شاعر سمجھ لینا ، احسان فراموشی کی انتہا ہے ۔
علم و فہم کا یہ چراغ اپنی مثال آپ ہے ۔ ہمیں اس روشنی کو جلائے رکھنا چاہئے ، اپنے لیے بھی اپنی نسلوں کے لئے بھی ۔ ایسے لوگ کسی بھی قوم کا فخر ہوتے ہیں ۔
اقبال کو زندہ رکھنا ہو گا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
اقبال اور ہم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment