Wednesday, 29 March 2017

مساجد یا عبادت گاہیں

" مساجد یا عبادت گاہیں "
میرے ناقص عقل و فہم کے مطابق ، مسجد وہ جگہ کہلاتی ہے جہاں خالق حقیقی کو سجدہ کیا جاتا ہے ۔ جہاں جو بھی چاہے اپنی جبیں اللہ کے سامنے جھکا سکے ۔ عبادت گاہ ، وہ جگہ جہاں خالق حقیقی کے سامنے عبودیت کا اظہار کیا جا سکے ۔ وہ سجدہ ہو ، ذکر ربی ہو ، اللہ کے سامنے خشیت کا اظہار کیا جا سکے ۔ اس لحاظ سے عبادت گاہ اور مسجد مشترک تقدس رکھتی ہیں ۔ دونوں کو اللہ سے مناسبت ہے ، اسلئے دونوں کا احترام واجب ہے ۔ مسجد تخصیص کے ساتھ مسلمانوں کی جائے عبادت اور عبادت گاہیں مختلف عقائد کی اپنے اپنے طرز عبادت کی جگہ ۔ چونکہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے انکی عبادت گاہ محترم ہوتی ہے ۔ قطع نظر عقیدہ درست ہے یا غلط ۔ اسی نقطہ کے تحت اسلام نے ہر عبادت گاہ کو تحفظ فراہم کیا ۔ اور ہر مذہب کو آذادی دی کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں اپنے عقائد کے مطابق آزادی سے حق عبادت ادا کرے ۔  شومئ قسمت سے ، اللہ کو  سجدے کےلیے بنی ہوئی مساجد کو مسالک کے اعتبار سے ، محدود کرنے کی رسم نے ہر مسجد کے چہرے پر مسلک کی مہر ثبت کر دی ۔ وہاں اسی کو سجدے کی اجازت ہے ، جس کا  تعلق اس مخصوص مکتبہ فکر سے ہے ۔  مسجد کا تقدس  مشترک ہونا چاہئے تھا ، جو منتشر ہو کر رہ گیا ۔ اسکا اثر مسلمانوں میں تفریق کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ۔ سجدہ جو صرف اللہ کو تھا اور اللہ کو ہونا چاہئے ۔ مسالک کے ساتھ مربوط کیا جانے لگا ۔ گویا مسجد ، سجدے کی جگہ کم اور مسلک کی عبادت گاہ  زیادہ ہو کر رہ گئی ہے ۔  یہ نہ اسوہ حسنہ کے مطابق ہے اور  نہ قران کی تعلیم کے مطابق ۔  سمجھ سے باہر ہو گیا کہ مسجد کا تقدس واپس کیسے آئےگا ۔ اور مسالک کی چھاپ کیسے اترے گی ۔ ہر مسجد کب سب مسلمانوں کی سجدہ گاہ بنے گی ۔ کب مسالک کی اجارہ داری ختم ہو گی ۔
شکریہ
ازاد  ھاشمی

No comments:

Post a Comment