" میلاد النبی "
خطہ عرب کی معاشرتی زندگی کی بدتر حالت ، جہالت کا یہ عالم کہ معمولی تکرار پر نسل در نسل دشمنی کا باب شروع ہو جاتا تھا - تکبر , رعونت ، غلاموں سے وحشیانہ سلوک ، عورت محض ایک ہوس پرستی کا کھلونا ، بیٹی کو برائی سمجھنا ، سہل پرستی ، نہ کوئی عقیدہ نہ مذہب ، جس قبیلے کا دل چاہتا اپنا بت کعبہ میں لا کر سجا لیتا ۔ اندھیرا ہی اندھیرا ، جہالت کا راج ، شراب و مستی کے کھیل ، لوٹ مار کا دور دورہ ۔ یہ نہ صرف عربوں کا حال تھا بلکہ پوری دنیا میں جبر و استبداد ، گمراہی ہی گمراہی ، تمام تہذیبیں اپنی مثبت اقدار کھو چکی تھیں ۔ ہر کوئی ایک ایسی روشنی ، ہدایت اور مسیحائی کا منتظر تھا ، جو بے کسوں ، بے سہارا ، مظلوموں ، یتیموں اور بے نواوں کو تحفظ دے ۔یہ ہستی عرب کے ریگزار میں ظہور میں آئی ۔
ایک غیر معمولی روشنی کی کرن ، ایک ہمہ گیر رحمت کا سایہ ، باد صموم میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ، ایک مسرت اور شادمانی کا احساس لے کر آنے والی ہستی سے منسوب ماہ مبارک ، کیسے عید نہیں ہو گا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
میلادالنبی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment