" ہمارا کردار "
ظہور اسلام سے لیکر آج تلک ، یہود مسلمانوں سے نالاں ہی رہے اور اسلام کی بیخ کنی کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے ۔ جہاں اور جب موقع ملا ، مسلمانوں پر بربریت کے پہاڑ توڑے ۔ جو سازش ممکن ہو سکی کی ۔ نتیجہ کیا ہوا ، یہودیت سکڑتی رہی اور اسلام کو پھیلاؤ ملتا رہا ۔ آج دنیا کا کوئی کونا باقی نہیں ، جہاں مسلمانوں سے اہل یہود نے محاذ نہ کھول رکھا ہو ۔
یہ کوئی مثبت انداز فکر نہیں ، کھلم کھلا فساد ہے جو دھرتی پر پھیلا رکھا ہے ۔چند روز پہلے سے ایک آگ نشان عبرت بنی ہوئی ، یہ اللہ کی پکڑ ہے ، یا ظلم سے روکنے کی تنبیہ ہے ۔ یہ اللہ جانتا ہے اور وہ مختار ہے ، قادر ہے ، جو چاہے کرے ۔
ہم اس نبی کی امت ہیں ، جو مجسم رحمت بن کر آئے ۔ ہمیں اظہار خوشی اور بد دعاؤں کی تحریک کی بجائے ، ہدایت کی دعا کے ساتھ ہمدردی ، مثبت تعاون اور اظہار غم کرنا چاہئے ۔ یہ ہماری تعلیم بھی ہے اور شان بھی ۔ آفات ربی میں گھرے ہوئے کسی بھی انسان کا تماشہ دیکھنا ، ہمارے دین کا سبق نہیں ۔ یہ فعل بھی بربریت کی ہی ایک شکل ہے ۔ کہ ہم دوسرے انسانوں کی بےبسی پر خوشیاں منانے لگیں ۔ ہمیں اپنی امن پسندی کا کردار نبھانے کی طرف سوچنا چاہئے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
ہمارا کردار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment