Wednesday, 29 March 2017

مائی لارڈ کون

" مائی لارڈ کون "
انگریز کا جب بھی بس چلا اس نے مفتوح قوم کی غیرت اور حمیت کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ روایات کو ، تمدن کو ، تہذیب کو ، معاشرتی اقدار کو تہس نہس کیا ۔ پھر ایسے نشان ذہنوں میں نقش کر دیئے جو مٹنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔  عدالتی نظام ، تعلیمی نظام ، طرز حکمرانی ایسا قائم کر دیا کہ آزادی کے بعد بھی غلامی ختم نہیں ہوتی -  وکلاء برادری عموماً  اعلی تعلیم یافتہ طبقہ مانا جاتا ہے ، جو حقوق اور فرائض سے بخوبی اگاہ ہوتے ہیں ۔ الفاظ کے معانی اور مفہوم کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔ مگر غلامی کی گہری لکیر جو انگریز نے انکے ذہنوں میں کھینچ دی ۔ وہ کبھی نہیں مٹ پائی ۔ عدل کی کرسی پہ بیٹھے  ہوئے   ہر بت کو می لارڈ کہنا اور ماننا  ، روز مرہ کا معمول ہے ۔ جو انگریز لکھ کے چلا گیا آج تک ہمارا قانون اور اسکے رکھوالے اعلیٰ تعلیم یافتہ وکیل  ۔  فیصلے دینے والوں کا کردار بھی اب کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ مائی لارڈ نے جو کمال دکھایا ، ہم تو بھگت ہی رہے ہیں ، ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی ۔ وکلاء کی بھی اور ججوں کی  نسلیں بھی  یہ پھل کھائیں گی ۔ وقت ہے کہ حقیقی مائی لارڈ کا قانون مان لیا جائے ۔ اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے ۔ اسی میں عافیت ہے ۔  اسی میں آخرت کی بھلائی بھی ہے دنیا کی بھی ۔ ایک دن ہر وکیل کا دروازہ اور ہر انگریز کے مائی لارڈ کا دروازہ موت کھٹکھٹائے گی ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment