Monday, 27 March 2017

آخر کیوں نہیں

" آخر کیوں نہیں "
ہم سیاست پہ لکھیں ، مسالک پر لکھیں ، شعر و شاعری کریں ، لطیفے لکھیں ، اپنے اپنے خاندانی پس منظر لکھیں ، ارسطو ، جبران ، عمر خیام ، عمارتوں کی شان میں لکھیں ، اداکاروں کی تصویریں جوڑیں ،  پیروں فقیروں کی کرامات لکھیں ۔ سب ٹھیک ، سب جائیز ۔ 
جیسے ہی اہل بیت پہ لکھو ، کربلا کے مظالم کی بات کرو ، یزید کے ظلم کا تذکرہ کرو ، کربلا کے شہدا کے عزم  پہ قلم اٹھاو ، کچھ مذہبی محقق میدان میں کود پڑتے ہیں ۔ جیسے انکے بزرگوں کی شان میں گستاخی ہونے جا رہی ہے ۔ احادیث کے حوالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یزید نے کوئی ظلم ہی نہیں کیا ۔عشرہ مبشرہ کا تذکرہ چھڑ جاتا ہے ۔ اب تو چند محقق یہاں تک لکھنے لگے ہیں کہ حسین علیہ السلام کا یہ سفر ایک حکومت کے خلاف بغاوت تھی اسلیے یزید حق پر تھا ۔ کچھ تو اہل بیت کو ماننے سے انکار کی حد تک پہنچ گئے ہیں ۔
بات صرف اتنی ہے کہ جس کا جس سے واسطہ ہوتا ہے ، وہ اسی کی طرف داری کرتا ہے ۔ جن کو یزید کا تعلق عزیز ہے وہ اپنا تعلق جاری رکھیں ، اور جو غم حسین کو اپنی متاع عزیز سمجھتے ہیں انکو کرنے سے نہ کوئی روک سکا نہ کوئی روک پائے گا ۔
حق پر کون تھا ، آج تک نہ تاریخ جھٹلا سکی اور کوئی دلیل ۔ اہل بیت کی عظمت ہر اس دل میں ھے جس میں ایمان کی معمولی سی رمق بھی باقی ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment