" ایسے قانون کی توہین لازم ہے "
انگریز بہت مکار ذہن کا مالک ہے ۔ ہمیں چند نعمتوں سے نواز گیا ۔ جس کیوجہ سے ہم بحیثیت قوم ایسی سزا بھگت رہے ہیں کہ نہ امن ، نہ خوشحالی ، نہ تحفظ اور نہ کوئی حقوق ۔ قانون ایسا کہ جس میں اگر مجرم صاحب اثر و رسوخ ہے تو اسکا ہر جرم قابل معافی ہے ، خواہ وہ جرم قتل جیسا ہولناک جرم ہی کیوں نہ ہو ۔ اور ایک روٹی کی چوری کا ملزم ، خواہ اس نے وہ روٹی چرائی ہی نہ ہو ، کئی سال جیل میں سڑنا اسکا مقدر بن جائے گا ۔ عدالت کے کمرے میں اونچی آواز میں بات کرنا بھی جرم ۔ جج کتنا ہی بے حیا اور بد کردار کیوں نہ ہو ، ایک لفظ اسکی شان کے خلاف کہنا ، جرم ۔ یہ سب وہ زباں بندی ہے جو حاکم قومیں محکوموں پہ روا رکھتی ہیں ۔ ایسے قانون کی توہین لازم ہے ۔ کیونکہ یہ ہمارا قانون نہ تھا نہ ہے ۔ ہمارا قانون اللہ کا قانون تھا اور اللہ کا قانون ہے ۔ جو عدالتیں عدل نہ دے سکیں انکی توقیر انسانیت کی توہین ہے ۔ حقوق میں تناسب کا تقاضا ہے کہ عدالتیں ہر فرد کو ایک جیسا تصور کریں ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کس بات کا احترام ۔ توہین عدالت کا مرتکب تو وہ جج ہے جو اندھے قانون پر اندھے فیصلے صادر کرتا ہے ۔ ایسا جج خائن ہے اور خیانت کا مرتکب ہے ۔ ایک خیانت کرنے والے کی عزت اور توقیر کیوں ۔ بے قصور کو سزا دینا ظلم ہے اور ظالم کے سامنے جھکنا مذہب سے غداری ہے ۔ کتنے لوگ پھانسی کے پھندوں پہ جھول گئے ، بعد میں پتہ چلا کہ وہ بے قصور تھے ۔ ایسے کتنے بےقصور ہونگے جو جیلوں میں پڑے ہونگے ۔ ایسے کتنے ہیں جو اپنے اثرورسوخ کی بنا پر جرم کر کے بھی آزاد ہیں ۔ کیا پھر بھی ایسے قانون کی عزت لازم ہے ، یا توہین ضروری ہے ۔ سوچیں ۔ شائد نظام میں تبدیلی آجائے ۔
جج صاحبان بھی فکر کریں کیونکہ کل انکی اولاد جج نہیں ہو گی ، یہ قانون ان پر بھی لاگو ہو گا ۔
ازاد ہاشمی
Saturday, 1 April 2017
ایسے قانون کی توہین لازم ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment