" سچائی یا اکثریت "
اللہ نے جب بھی انسان کی ہدایت کے لئے کسی نبی اور رسول کو مبعوث فرمایا ۔ تو اکثریت نا فرمان ، گمراہ اور اخلاقی طور پر گرے ہوئے لوگوں کی ہی رہی ۔ اسلام کا سورج طلوع ہوا تو لادین ، بت پرست ، شرابی اور زانی ، آگ کو پوجنے والے ، عیسائیت اور یہودیت کے پیرو کار ، بلا مبالغہ اکثریت میں تھے ۔ اگر ان سب کو آج بھی اسلام کے مقابل شمار کیا جائے تو اکثریت میں ہیں ۔
ان سب لوگوں سے ایک سوال کی جسارت ہے ، جو جمہوریت کو دین کی طرح مانتے ہیں کہ اس ترازو پہ اسلام کا کیا مقام ہو گا ۔
قابل شرم ہے ان مذہبی رہنماؤں کا کردار ، جو اسلام کی چھتری تلے جمہوریت کو پناہ دیئے بیٹھے ہیں ۔ اور ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ اسی سیڑھی سے اسلام کے نظام تک رسائی ہے ۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جو نظام بنایا ہی اسلام کے تقابل کیلئے گیا ہے ، اسی نظام سے ہم اسلام کے نفاذ کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ اسے سوچ کی سادگی کہا جائے ، اسلام سے منافقت کا نام دیا جائے ، یا اسلام دشمنوں کی کاسہ لیسی مانا جائے ۔
لبرلز ، جو اپنے آپ کو حقیقت سے قریب تر سمجھتے ہیں ۔ جو جمہوریت کو ترقی کا زینہ مانتے بھی ہیں اور منوانے کے جتن بھی کرتے رہتے ہیں ۔ ان سے پوچھا جائے کہ اگر برائی کے پرستار زیادہ ہو جائیں تو کیا برائی اختیار کر لینی چاہیئے یا سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے ۔
ہمیں اپنا فیصلہ کرنا ہو گا ۔ سچائی یا اکثریت ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی
Tuesday, 28 March 2017
سچائی یا اکثریت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment