" دادی جان "
ہر جانے انجانے سے بے لوث اپنائیت کا رشتہ ، ہر عمر کے مرد اور عورتوں کی دادی جان ، میرے فخر کا سرمایہ میری ماں تھیں ۔ کسی کا سودا نہ بکے ،ضرورت ہو یا نہ ہو دادی جان ہمہ وقت خریدار تھیں ، کوئی مریض ہے تو دادی جان کے حقیقی پوتے پوتیاں علاج کو حاضر ہیں ۔ اپنے پوتے پوتیوں پر ہر وقت نظر کا ثمر ہے کہ آج میرے سارے بچے اللہ کے کرم سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ پورے محلے کا ہر ضرورت مند دادی جان کو عزیز تھا ۔ اسکے لئے کسی شناسائی کی کبھی ضرورت نہیں پڑی ۔ بس جس نے بھی دادی جان کہہ دیا اس سے شناسائی ہو گئی ۔ رستے چلتے دادی جان کو سلام سلام کی آوزیں ایک معمول تھا ۔ ہر اجنبی دیکھ کر ہنستا تھا ۔ دن بھر میں ایک بار بازار کا چکر لازمی تھا ، ریہڑی والے ، خوانچہ بان ، سڑک کنارے بیٹھا ہر کوئی ، امید لئے آواز دیتا اور دادی جان کبھی مایوس نہ کرتی ۔ اپنے لئے نہیں تو ، بشیرو اور بشیرو کے بچوں کیلئے ہی خرید لیتیں ۔
کیا ہوا ہو گا ، جب سب کی دادی قبر کی طرف چلی ہونگی ۔ کتنی آنکھیں نم آلود ہوئی ہونگی ۔ اپنے پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں کو کتنا جبر کرنا پڑے گا ، جب کمرے سے ڈانٹ کی آواز نہیں آئے گی ۔ جب گھر میں گھستے ہی کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا کہ آج وقت پہ کیوں نہیں آئے ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی
Wednesday, 29 March 2017
دادی جان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment