" الطاف حسین کے نام "
کئی سال پہلے جب ایم کیو ایم کا ابتدائی دور تھا ۔ آپ سے بالمشافہ ملاقات کے دو تین مواقع ملے ۔ آپکی گفتگو کا انداز ، اپنے نظریے کا اظہار اور مسائل پر گہری نظر کے ساتھ ساتھ ، ان مسائل کا حل آپکی شخصیت کا مظہر تھا ۔ رعونت ، تکبر ، وطن سے بیر کا شائبہ تک نہیں تھا ۔ پھر نہ جانے کیا ہوا ، اچانک گولی کی زبان میں بات ہونے لگی ، لاشیں تحفوں میں بھیجنے کی رسم چل نکلی ۔ گلی کوچے تو الگ گھروں میں بھی عدم تحفظ ہو گیا ۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ نے موروثی سیاست کی کراچی اور حیدرآباد سے جڑیں اکھاڑ دیں ۔ یہ ضرورت تھی ۔ عام سطح کے غریب لڑکے اسمبلیوں میں جا کر غریبوں کی نمائیندگی کرنے لگے ۔ یہ ایک واضع تبدیلی تھی ۔ میرا آپکی جماعت سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ۔ مگر حقیقت یہی تھی جو میں نے کہدی ۔ پھر آپکا لہجہ بھی بدل گیا ، الفاظ بھی شائستگی کی حد سے گرنے لگے ۔ دہونس دھمکی نے آپ کی شخصیت گہنا دی ۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اپنے آغاز کی طرف لوٹ جائیں ۔ اپنے نا اہل مشیروں سے ، جنہوں نے اس راہ پر آپ کو واہ واہ کہا ، چھٹکارا پالیں تو پورے وطن کے لوگ آپ کے ساتھ ہو جائیں گے ۔ اس وقت سیاست کی دنیا میں ، اگر دیانتداری سے دیکھا جائے ، تو صرف تین لوگ اس اہل ہیں ، جو موجودہ اندرونی اور بیرونی مسائل کو حل کر سکتے ۔ جن میں آپ کو فہرست میں پہلا مقام حاصل ہے ۔ الزامات اپنی جگہ پر درست ہیں یا غلط ، اسکی تفصیل بے سود ہے ۔ ایک عام فہم کا ، غیر سیاسی جائزہ یہی ہے ۔ کہ اگر آپ نے کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر ، الفاظ کو تولے بغیر بول دیا تو یہ آپکی قیادت پر ہمیشہ سوال بنا رہے گا ۔ اگر ہو سکے تو قوم کو محبت ، حقائق ، اور مسائل کے حل کرنے والی زبان سے مخاطب کریں ۔ پھر سے ہر پسے ہوئے کی بات کریں ۔ لسانیت کی دیوار کو راستے سے ہٹا دیں ۔ جبر کا شکار کوئی ایک قوم نہیں ، ہر وہ شخص ہے جس کے بازو کمزور ہیں ۔
اے کاش یہ چند جملے آپ تک پہنچ جائیں ، اور آپ چند لمحے سوچیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Thursday, 30 March 2017
الطاف حسین کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment