" جاہل قوم کے مقدس لیڈر "
ہماری قوم کی بھی عجیب روایات ہیں ، جس کو جب چاہیں مسیحائی کی خلعت عطا کردیں اور جس کو جب چاہیں ٹھاہ بنا دیں ۔ ایک سو چھبیس سیاسی جماعتیں ، انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہیں اور ان میں سے نصف ایسی ہیں جن کے خالق قانون کی نظر میں مجرم ، خائن ، دشمن کے ایجنٹ اور قابلیت کے اعتبار سے جاہل مطلق ہیں ۔ ان سب نے ایک ایک منشور جمع کرا رکھا ہے ، جو تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ ایک دوسرے کا چربہ ہے ۔ وہ جماعتیں جو ملکی قانون کی شرائط پوری نہیں کر رہیں انکی گنتی ممکن نہیں ، کیونکہ ایک ایک شہر میں انگنت ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب منشور ملتے جلتے ہیں تو پھر الگ الگ محاذ کی ضرورت کیا ہے ۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے سے کیا مقصد حاصل ہو سکتا ہے ۔ جب سوچ ایک ہے تو اکٹھے بیٹھنے میں کیا حرج ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ منشور سے کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں ، نہ لیڈرز کو نہ کارکنوں کو ۔ مفادات کی جنگ ہے ، لیڈرز کی بھی اور سیاسی پیشہ ور کارکنوں کی بھی ۔ یہی جمہوریت ہے جس نے ایمان کی جگہ لے لی ہے ۔ پیشہ ور سیاسی کارکنوں نے ان لیڈروں کو مقدس بنا رکھا ہے ، کسی کی مجال نہیں کہ کسی سیاسی چور کو چور کہہ سکے ۔ ایسا سچ بولنے والے کی جان ، مال ، عزت و آبرو کی کوئی ضمانت نہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ سلیکشن کمیشن ، احتسابی ادارے ، ملکی سالمیت کے ذمہ داروں نے کبھی جرات نہیں کی کہ سیاسی پارٹی کو منشور پر عمل نہ کرنے کے باعث مزید مذاق سے روک دیا ہو ۔
ایسے نظام اور طرز حکمرانی کو کیا کہنا درست ہو گا ۔ کیا اسے جاری رہنا چاہئے یا ختم ہونا چاہئے ۔ آئیے ملکر سوچتے ہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
جاہل قوم کے مقدس لیڈر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment