Monday, 27 March 2017

بیوقوف کی تلاش

" بیوقوف کی تلاش "
" بابا جی ! بیوقوف کہاں ملتے ہیں "
میرا سوال سنتے ہی بابا جی نے زور دار قہقہہ لگایا ۔ مجھے دیکھنے لگے ۔
" بیٹا خیریت ہے ، یہ بیوقوفوں کی تلاش کیوں شروع کردی ۔ جو چیز کثرت سے ہو ، اسے ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہر وہ شخص بیوقوف ہوتا ہے ، جو جھوٹے پر اعتبار کرے ۔ میں ، تم اور یہ ساری قوم بیوقوف ہے جو ستر سال سے جھوٹوں پر اعتبار کر رہی ہے "
" بیٹا ! تمہیں سب سے بڑے بیوقوف کی نشانی بتاتا ہوں ، آسانی ہو جائے گی ۔ ہر وہ شخص بیوقوف ہوتا ہے جو خود کو عقلمند سمجھے اور دوسرے کو بیوقوف ۔ جسے یقین ہو کہ اسے مرنا ہے اور پھر بھی دنیا جمع کرنے میں جتا رہے ۔ جسے آنے والی سانس کا یقین نہ ہو اور سجدہ کل کے انتظار پر چھوڑ دے ۔ جس کے ماں باپ زندہ ہوں اور دعا کے لئے پیروں کے در چاٹتا پھرے "
" بیٹا ! دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانا بھی بیوقوف کی پہچان ہے "
بابا جی نے میری طرف غور سے دیکھا ، اور مسکراتے ہوئے بولے
" اگر تلاش میں نکل ہی پڑے ہو ، تو عقل والوں کو تلاش کرو ۔ عقل سیکھو گے ۔ بیوقوفوں کو تلاش کرو گے تو ۔۔۔۔ "
بابا جی نے بات ادہوری چھوڑی ، مسکراتے ہوئے آہستہ سے بولے
" بیوقوف کہیں کا "
شکریہ
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment