چاند ستاروں کی بات کرتے ہو
حسین بہاروں کی بات کرتے ہو
گنگناتی آبشاروں کی بات کرتے ہو
یاد کرو
کبھی وفا کا دور ہوا کرتا تھا
عجب سا سرور ہوا کرتا تھا
ہر چہرے پہ نور ہوا کرتا تھا
یاد کرو
دکھ بھی سب کے سانجھے تھے
سکھ بھی بانٹا کرتے تھے
اک پاوں میں کانٹا چبھتا تھا
ہر دل میں ٹیس اٹھتی تھی
آو اکٹھے بیٹھ کے سوچیں اب
وہ لوگ پرانے کہاں گئے
وہ سپنے سہانے کہاں گئے
وہ ملن بہانے کہاں گئے
وہ پریت یارانے کہاں گئے
جو دور کی لایا کرتے تھے
وہ ا ن پڑھ سیانے کہاں گئے
جو روز کہانی سناتی تھیں
وہ دادی نانی کہاں گئیں
لمبی لوری یاد تھی جس کو
وہ خالہ جانی کہاں گئیں
آو مل کے ڈھونڈہیں وقت پرانا
آو پھر سے گائیں پیار ترانا
آزاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
کیا بات کرتے ہو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment