Monday, 27 March 2017

کیا بات کرتے ہو

چاند ستاروں کی بات کرتے ہو
حسین  بہاروں کی بات کرتے ہو
گنگناتی آبشاروں کی بات کرتے ہو
یاد کرو 
کبھی وفا کا  دور ہوا کرتا تھا 
عجب سا سرور ہوا کرتا تھا
ہر چہرے پہ نور ہوا کرتا تھا 
یاد کرو
دکھ بھی سب کے سانجھے تھے
سکھ بھی  بانٹا کرتے تھے
اک پاوں میں کانٹا چبھتا تھا
ہر دل میں ٹیس اٹھتی تھی
آو اکٹھے بیٹھ کے سوچیں اب
وہ لوگ پرانے کہاں گئے
وہ سپنے سہانے کہاں گئے
وہ ملن بہانے کہاں گئے
وہ پریت یارانے کہاں گئے
جو دور کی لایا کرتے تھے
وہ ا ن پڑھ سیانے  کہاں گئے
جو روز کہانی سناتی تھیں
وہ دادی نانی کہاں گئیں
لمبی لوری یاد تھی جس کو
وہ خالہ جانی کہاں گئیں
آو مل کے ڈھونڈہیں وقت پرانا
آو پھر  سے گائیں پیار ترانا
آزاد ہاشمی 

No comments:

Post a Comment