" بہادری کہاں گئی "
سنا ہے اور تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مسلمان ایک بہادر قوم ہوا کرتی تھی ۔ بے سروسامانی میں بھی دنیا کی نہایت طاقتور قومیں مسلمانوں سے لرزاں تھیں ۔ وہ طاقت ، ایمان کی طاقت تھی ۔ اللہ پر توکل کی عادت تھی ، اللہ کے دین سے لگن تھی ، ایک معبود ، ایک قران ، ایک رسول ، ایک دین کی یگانگت تھی ۔ موت اللہ کے لئے تھی زندگی اللہ کے لئے ۔ حکم ربی ہر خواہش پر حاوی تھا ۔ یہ وہ طاقت تھی یہ وہ محبت تھی اللہ اور رسول اللہ سے ، جو مسلمانوں کو ممتاز کرتی تھی ، بہادر بناتی تھی ۔
اب یہ سب کچھ باقی نہیں رہا ۔ اب یہ امت ، مسالک کی تقسیم سے ، ایمان کی کمزوری سے ، حرص و ہوس کی پرستش سے کمزور امت بن چکی ہے ۔ کفر کے لئے آسان ترین حدف ، سازشوں کے لئے موثر ترین لوگ ۔ جس کا دل چاہے بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر مقتل میں لے جائے ۔ جس کا دل چاہے گردن پہ پاوں رکھ لے ۔ جس کا دل چاہے گھر اور چھت چھین لے ۔ دنیا کے کروڑوں مسلمان اسقدر بے بس کہ الاماں الحفیظ ۔
رسوائی کی کیا حد ہو گی جو ہم مسلمان عبور نہیں کر چکے ۔ کافروں سے رحم کی بھیک مانگتے ہیں ، اللہ سے مدد مانگنے کو ایمان سمجھنے والے کفر کے سامنے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں ۔ سوشل میڈیا پہ تصاویر لگا لگا کر اپنی بے بسی کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔
ان تمام علماء سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جہاد کب اور کہاں واجب ہوتا ہے ۔ جنہوں نے مسالک کی آگ سے مسلمانوں کی یگانگت خاک کر ڈالی ۔ جنہوں نے سیاسی بساط میں اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔
کہاں ہے بہادری ۔ کہاں ہے ایمان ۔
کیا جواب دو گے یوم حساب اللہ کو ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
بہادری کہاں گئی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment