" جمہوریت کے راستے شریعت"
کیسا بھونڈا مذاق ہے جو ایک طویل عرصے سے مذہبی جماعتیں ، احمق قوم سے کئے جا رھی ہیں ۔ شریعت اللہ کا واضع نظام ہے ، اسے ہر اس بندے پر لاگو ہونا مذہبی پابندی ہے جو خود کو مسلمان کہتا یا کہلاتا ہے ۔ ہم اسلامی ملک کے شہری ہیں ، جس کے سربراہ کا مسلمان ہونا لازمی ہے ، جسکا دستور قرآن اور سنت کے مطابق ہونا لازم ہے , جسکا عدالتی ، انتظامی ، معاشی طریقہ اسلام کے مطابق ہونا اصولی ہے ۔ پھر یہ جمہوریت کی پخ لگانے کا مقصد کیا ہے ۔ آخر وہ کیا مجبوری ہے کہ ہم نے نظام اسلام سے متضاد نظام کو اختیار کر رکھا ہے ۔ اور لوگوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو ، ہم اسلام کا نظام لا کر دکھائیں گے ۔ ارے محترم ، پہلے یہودی کے نظام سے الگ تو ہو جاو ، تا کہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ کا قول و فعل متضاد نہیں ہے ۔ پھر دیکھو اللہ کی نصرت اور عوام کا جم غفیر کس طرح تمہاری اعانت کو اٹھتا ہے ۔ یہ شکایت کہ لوگ مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے ۔ بے سود ہے ۔ مذہبی جماعتوں کا عمل ہی مذہب سے متصادم ہے ، پھر کیوں ووٹ دیں ۔
جمہوریت اور شریعت کو الگ الگ رہنے دو ، قوم کی سادہ لوحی سے مذاق کا رویہ چھوڑ کر سنجیدہ راہ اختیار تو کر کے دیکھو ۔
شکریه
ازاد ھاشمی
Wednesday, 29 March 2017
جمہوریت کے راستے شریعت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment