Wednesday, 29 March 2017

مانگنے والے ہاتھ اور ہم

" مانگنے والے ہاتھ اور ہم  "
آئیے مل کر سوچتے ہیں اور اپنے اپنے مواخذے سے آغاز فکر کرتے ہیں ۔ سوچتے ہیں کہ ہمارے ہی جیسے گوشت پوست کے بہت سارے انسانوں کی زبوں حالی کا سبب کیا ہے اور تدارک کیا ۔ اپنے بچوں کے سامنے ان بچوں کو بٹھا کے دیکھتے ہیں کہ  وہ کونسی چیز ان بچوں کو نصیب نہیں ، جو گلیوں اور بازاروں میں بھیک مانگتے ہیں ، جو کچرا خانوں سے  خوراک کے ٹکڑے تلاش کرتے  پھرتے ہیں ، جو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔ آخر کیا فرق ہے ان بچوں اور ہمارے بچوں میں ۔ ہمارے سینے میں ان کی بے بسی کو دیکھ کر وہ درد کیوں نہیں ہوتا جو اپنے بچوں کی تکلیف ہہ ہوتا ہے ۔  کسی مانگنے والے ہاتھ پہ چند سکے رکھ دینا کونسی سخاوت ہے ،  کونسی ہمدردی ہے ۔ اصل سخاوت تو یہ ہے کہ ہم ان مانگنے والے ہاتھوں کو اسباب فراہم کریں کہ یہ بھی ہماری طرح معاشرے میں رہیں ۔   اپنی آسائشوں سے ہاتھ روک کر سوچا جائے تو ازالہ نہایت آسان ہے ۔  کتنے ہیں یہ لوگ ، معاشرے میں انکا تناسب کیا یے ، اگر سیاسی پنڈت ، صنعتکار ، سماج کی خدمت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے سماجی لوگ ، میں اور آپ ، سچائی سے سوچ لیں ، ارادہ باندھ لیں تو ہر مانگنے والا ہاتھ آنے والے وقت میں دینے والا ہاتھ ہو گا ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ میرا اور آپکا امتحان ہو ۔ 
اگر انفرادی طور پہ نہیں تو اپنے احباب کے ساتھ ملکر مثبت انداز سے متحرک ہوا جائے  کہ ہر مانگنے والے کے لئے وسائل بنائے جائیں ، نہ کہ چند سکے بانٹ کر اجر کی تلاش کی جائے  ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment