Monday, 27 March 2017

میری زندگی کی بیاض

جب بھی اکیلا بیٹھتا ہوں - اپنی زندگی کی بیاض کھولتا ہوں - حساب کرتا ہوں تو یہی احساس ہوتا ہے - کہ میں نے ساری زندگی نقصان کا سودا کیا - جو کمانا تھا وہ چھوڑ دیا , جو بے سود تھا اس کے حصول میں زندگی گزار دی - جو بھی کمایا اسی دنیا کا تھا اسی دنیا میں رہ جائیگا - آخرت کے رخت سفر کے لئے جھولی میں کچھ بھی نہیں - مانگا بھی تو کیا مانگا - دینے والے کی عظمت کو دیکھے بغیر مانگتا رہا - اور دینے والا دیتا رہا - یہ سب مانگنے سے بہتر تھا , اسکی رضا مانگ لیتا - عبادت کا حسن مانگ لیتا - اسکے پیاروں کی لگن مانگ لیتا - اسکی قبولیت مانگ لیتا -
زندگی مانگنے کی جگہ اسکی راہ میں موت مانگ لیتا -
اپنی نادانیوں پہ پشیمان ہوں کہ کاش مجھے مانگنا آ جاتا , تو میں اپنی جھولی کی وسعت کے مطابق نہیں اسکی شان کے مطابق مانگتا -
اے مالک و خالق , مجھے مانگنے کا سلیقہ نہیں آیا , تجھے تو دینے کا بہانہ چاہیے ' تو تو بن مانگے بھی نوازتا ہے -
مجھ جیسے سب نادانوں کو بھیک میں اپنی رضا سے نواز دے - وہ عمل سکھا دے , جس سے تو راضی ہوتا ہے - وہ عبادت سکھا دے جسے تیری قبولیت ملتی ہے -
آمین
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment