Monday, 27 March 2017

صرف ایک جماعت

" صرف ایک جماعت "
جب ہم اپنے وطن کی سیاسی بساط کو دیکھتے ہیں ،  تو تقریباً تمام پارٹیاں ایک ہی محور کے گرد گھومتی ہیں اور وہ ہے جمہوریت ۔ رفتہ رفتہ یہ تصور ہی ختم ہو گیا کہ جمہوریت کے سوا کوئی چارہ کار باقی ہے ۔ مذہب کی چادر اوڑھے ہوئے قائدین بھی جمہوریت کو لازم قرار دینے پر بڑی شد و مد سے متحرک ہیں ۔ صرف ایک امید باقی تھی کہ اگر اسلامی نظام کو لایا جا سکتا ہے تو وہ صرف ایک ہی جماعت ہے جو منظم بھی ہے اور فعال بھی ۔ ایک قابل احترام دوست لکھتے ہیں کہ اگر انہیں دو لاکھ فعال کارکن مل جائیں تو انقلاب کی نوید سنانے کا یقین دلاتے ہیں ۔ میں محترم دوست کی بات سے کلی طور پر اتفاق کرتا ہوں ۔ اگر اسی پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو یہ سعادت جماعت اسلامی کو حاصل تھی کہ وہ ایک دعوت پر لاکھوں منظم کارکنوں کو میدان میں لے آتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے میدان میں آنے سے ایک جم غفیر ساتھ ہوتا ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ جماعت نے بھی قوم و وطن سے شطرنج ہی کھیلا ۔ انہیں بھی جمہوریت کی سواری  ہی میں اسلام کا نفاذ دکھائی دیتا ہے ۔  منجھے ہوئے دانشور کارکن بھی اپنی قیادت کی ویسی ہی پرستش کرتے نظر آتے ہیں ، جیسی دوسری پارٹیوں میں ہے ۔ وہ  مراعات   جو   جو دوسرے اراکین اسمبلی حاصل کرتے ہیں ، وہی یہ اسلام کے مجاہد ہونے کے دعویدار کر رہے ہیں ۔ اسلامی نظام کا انقلاب لانے میں اسے رکاوٹ سمجھنا شائد غلط نہیں ۔ اکثر دوست کہتے ہیں قوم ووٹ دیکر اسمبلی انکے حوالے کرے  تو پھر وہ انقلاب لا کر دکھائیں گے ۔ میں اپنی ناقص عقل کے تحت سمجھتا ہوں کہ انقلاب لانے کے لئے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ پہلے سے انکے پاس ہے ۔ انکے پاس لاکھوں لوگ ہمہ وقت موجود ہیں ۔ رہی اسمبلی میں اکثریت تو شائد یہ محض پہلو تہی کا طریقہ ہے ۔ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مینڈیٹ بڑھنے کی بجائے کم ہو رہا یے ۔ اسلام کے نظام کا تصور بہت تیزی سے ذہنوں سے نکل رہا ہے ۔  وقت کو سمجھنے اور ایکشن لینے کی  ضرورت  آج ہے ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment