" کراچی مجرم نہیں "
کسی حقدار کو اسکا حق نہ دینا جبر ہے - جبر کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے اور ایک مخصوص عمر ۔ کراچی کے در و دیوار ، گلی کوچے ، باغیچےاور پارک ، حتیٰ کہ شہریوں کے چہروں کی زرد رنگت ، ایک ویرانی کی داستان لگتی ہے ۔ آخر وہ کونسا جرم ہے جو اس شہر سے اور اسکے مکینوں سے ہو گیا ۔ یہی نہ کہ یہاں کے کچھ لوگوں نے اپنے بچوں کا مستقبل مانگ لیا تھا ۔ اس میں کیا برائی تھی ۔ اس وطن کے ہر باسی کو اسکا بنیادی حق ملنا چاہئے ۔ یہ وطن کسی کی جاگیر نہیں ، پھر کیوں کچھ لوگ ہاتھ میں ڈنڈا اٹھائے رکھتے ہیں ، کہ جس کو چاہا مذھبی پابندی لگادی ، جس کوچاہا لسانی گروہ بنا ڈالا ، جس کو چاہا میرٹ دبا دیا ، جس کو چاہا غداری کا طوق پہنادیا ۔
آج کے کتنے غدار ہیں ، جنہوں نے حقوق مانگنے سے پہلے بغاوت کی آواز بلند کر دی ۔ حقوق مانگنے والے کو حقوق نہیں دو گے ، تو وہ کیا کرے گا ۔ احتجاج کرےگا ، احتجاج پہ تشدد ہوگا تو وہ دفاع کرے گا ، دفاع پر طاقت استعمال کرو گے تو وہ باغی ہو جائے گا ۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے ۔
کراچی میں کتنے لوگ ہیں ، جو باغی ہوئے ۔ کیا تناسب ہو گاان لوگوں کا ۔ پھر پورے شہر کو سزا کیوں ۔
زبان تو اظہار کا طریقہ ہوا کرتا ہے ، پھراسے سیاسی شناخت کی کیا ضرورت تھی ۔ کراچی مجرم نہیں ، اسے سزا مت دو ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جنکوغدار بنایا جا رہا ہو ، انکے دل اب بھی اسی وطن کے لئے دھڑکتے ہوں ۔ اگر ایسا ہے تو انہیں پھر سےقومی گلدستے میں سجا دو ۔
اپنی طاقت دشمن کے ہاتھ میں مت جانے دو ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
کراچی تو مجرم نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment