Wednesday, 29 March 2017

کافر کافر

" کافر کافر "
زیادہ دور کی بات نہیں ، ماضی قریب میں کافر کا مفہوم وہی تھا ، جو قرآن نے مقرر کیا ۔ مسالک کے اختلافات موجود تھے اور وہ مسائل فروعی تھے ۔  ان پر کفر کا اطلاق نہیں ہوا کرتا تھا ۔ پھر یہ فروعی مسائل اتنے اہم ہوتے گئے کہ کفر کے فتوے دینے میں ہر کوئی آزاد ہو گیا ۔ ایمان اور کفر کا امتیاز وہ بھی کرنے لگے ، جو خود احکامات ربی کے منکر بھی تھے ، گناہ کبیرہ کے عادی بھی ۔  حالانکہ گناہ کبیرہ کا مسلسل ارتکاب ، اللہ کے احکامات سے صریحاً انکار یے اور یہ از خود کفر ہے ۔ ایک سیدھے سادہ مسلمان کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے ، کہ کافر سازی کا کام ان ہاتھوں سے جاری ہے ، جو کافروں کو اسلام کی طرف راغب کرنے پر مامور تھے ۔ اب وہ کس کو راہنمائی کا ذریعہ بنائیں ۔
مسالک کے کرتا دھرتا رہنماؤں نے اللہ  اور اللہ کے رسول کو ماننے والی امت کو کافر کافر بنا کر دین اسلام کی کیا  خدمت کر ڈالی ۔ تفرقہ اور تعصب نے امت مسلمہ کو دنیا کی کمزور ترین امت بنا کر رکھ دیا ۔ الحاد اور شرک عام مسلمان گھروں میں قدم جما رہا ہے ۔  لبرل ازم اور سیکولر سوچ کافر کافر سے راہ فرار کی ایک شکل ہے ۔
یہ نہ کسی حکومت کو اختیار ہے ، نہ مذہبی پیشوا کو اور نہ کسی عالم و مفکر کو ، کہ انکی اطاعت نہ کرنے والے کے ایمان کا فیصلہ کریں ۔ یہ حدود اللہ نے مقرر کر رکھی ہیں اور انہی کو عمل بنائے رکھنا ، فرض بھی ہے اور درست سمت بھی ۔ 
ہمیں بہت ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے تا کہ اصل کفر کے وار سے بچ سکیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment