Wednesday, 29 March 2017

نیا سال

" نیا سال "
اے اللہ تیری دھرتی پر روز سورج طلوع ہوتا ہے روز غروب  ۔ دن بدلتے ہیں ، سال بدلتے ہیں ۔ موسم بدلتے ہیں ، کبھی بہار ہوتی ہے کبھی خزاں ۔ تیری شان کبریائی میں کچھ نا ممکن نہیں ۔ تو سنتا بھی ہے جانتا بھی ہے  ,سب اختیارات کا مالک بھی ہے ۔
ایک نئے سال کی نوید گردش کر رہی ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اب کی بار یہ نیا سال مظلوم ، بےکس ، نادار اور مستحق مسلمانوں کی دعائیں قبول ہونے کا سال ہو جائے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مسلمانوں کی حمیت اور غیرت جاگ جائے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ طاغوت کے سامنے جھکے ہوئے سر تیرے سامنے جھکنے لگیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حرص کے پجاری لیڈر تیری ہدایت کی راہ پہ چل نکلیں ۔  میرا ایمان ہے کہ تو یہ سب کرنے پہ قادر ہے ۔ تو فرعون سے بنی اسرائیل کو نجات دلانے پہ قادر ہے ۔ اپنی قدرت کے صدقے میں آج  کے فرعونوں سے نجات کے سامان پیدا فرما دے ۔ دنیا کے کونے کونے میں تیرے محبوب کی امت رسوائی جھیل رہی ہے ، ان کے لیے بھی عزت و توقیر کے نئے  سالوں کا  آغاز ہو جائے ۔  اے اللہ تیرے نظام کے لئے کوشاں ہاتھ کمزور اور بے بس ہیں ، طاغوتی نظام ہمارے رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے ۔ کوشاں ھاتھوں کو مایوسی سے بچا لے ۔ ہمیں فلاح کی راہ پر گامزن کر دے ۔  تیرا یہ انعام سب انعاموں سے افضل ہے ۔ ہمیں اس انعام سے نواز دے ۔ 
مایوس لوگوں کو ، مجبور لوگوں کو  نئے سال کی مبارک سے کیا سرو کار ۔  ایک ہندسہ بدلنے سے کیا واسطہ ۔ رسوم سے کیا ناطہ کیا رشتہ ۔ امراء کے چونچلے غریب کا زخم کریدتے ہیں ۔ اگر دینا ہے تو غریب کو ، ضرورت مند کو ، مظلوم کو نئے دن کے ساتھ محبت دو ، خلوص دو ، جینے کا سامان دو ۔ پھر مل کے کہو " نیا سال مبارک "
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment