" اے قوم کی حفاظت کا حلف اٹھانے والو "
کہاں ہیں وہ ہیرو ، کہاں ہیں دنیا کی نمبر ون ایجنسیاں ، کہاں ہیں وطن کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے ۔ تم تو کہتے تھے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ ڈالی ہے ۔ یہ ٹوٹی ہوئی کمر والے تو پھر سے موت کا ناچ کھیل رہے ہیں ۔ اب تو انکے ٹوٹے ہوئے ہاتھ تمہاری اپنی گردنیں دبوچ رہے ہیں ۔ اب کیا کہو گے قوم سے ۔ کیا دوسرا جھوٹ بولو گے ۔ را ، موساد ، سی آئی اے کس کانام لوگے ۔ القاعدہ پر الزام دھرو گے یا کسی دوسری تنظیم کو مورد الزام ٹھہراو گے ۔
اب کیا کہو گے قوم سے ، کہ اتنی مراعات کے بعد بھی یہ کارکردگی باعث شرم نہیں ۔
یہ موت کے کھلاڑی تو پہاڑوں سے اتر کر تمہاری اسمبلی کے سامنے خون بہانے لگے ہیں ۔ پہلے تو بے بس شہری نشانے پہ تھے ، اب تو تم لوگ ، جنہوں نے بندوقیں تھام رکھی ہیں ، جو بکتر بند گاڑیوں میں گھومتے ہو ، نشانے پر ہو ۔ کیا اب بھی مصلحت سے کام لو گے ۔ کیا اب بھی اپنے کسی پیٹی بند کا جنازہ اٹھانے کی تیاری جاری رکھو گے ۔
کبھی سوچا تم نے کہ تمہاری عیاشیاں ، تمہاری فرض سے غفلت ، تمہارا بے گناہوں پر جبر کونسی فصل ہے جو تم کاشت کر رہے ہو ، کبھی سوچا کہ اس فصل کو تمہاری نسلوں نے کاٹنا ہے ۔ تمہارے اپنے بچوں نے ۔ کبھی سوچنا کہ تم نے یہ ظلم نہ صرف قوم پہ کیا ہے بلکہ یہ ظلم اپنے بچوں پر بھی کیا ہے ۔ کہاں ہیں وہ بہترین پولیس آفیسر ، کہاں ہیں بہترین ایجینسیوں کے افسران ، کہاں ہیں سیاست کے مداری ۔ چند گھروں میں چند روز ماتم ، چند لاکھ کے چیک ، بڑے بڑے دعوے ، جنازوں کی تصویریں ، قبروں پہ پھول اور یتیموں سے فاتحہ کے بعد سب وہی جاری رہے گا جو آج تک جاری ہے ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Tuesday, 28 March 2017
اے قوم کی حفاظت کا حلف اٹھانے والو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment