Wednesday, 29 March 2017

کیا سکھا رہے ہو

" کیا سکھا رہے ہو "
اسلام ایک ھمہ گیر مذہب ،  نظام اور طرز حیات ہے - ہر وہ علم جس کی انسان کو بتدریج ضرورت پڑتی ہے ، قرآن میں پوری فصاحت کے ساتھ موجود ہے ۔ سمندروں کے اندر  ، پہاڑوں کے نیچے ، نباتات میں ، فلک کی وسعتوں میں اللہ نے خزانے رکھ دئے اور انسان کو قرآن سے حکم دیا کہ تسخیر کرو ۔  جو قومیں تسخیر میں لگ گئیں وہ معاشی جنگ جیت گئیں ۔ ہم مسلمانوں نے قرآن کو صرف ثواب کے لئے پڑھا اور اپنے مسائل کا حل دوسروں سے ادہار مانگتے رہے ۔  عجیب عجیب سی داستانیں گھڑ لیں اور انہیں اللہ کے رسول سے منسوب کر کے گروہ در گروہ تقسیم کر ڈالی ۔ جو اصل تعلیم تھی ، وہ نہ خود سیکھی اور نہ دوسروں کو سیکھنے دی ۔  علماء دین نے قرآن سے نہ سائنس سیکھی ، نہ علوم ارض وسما سیکھے ، نہ طرز حکومت سیکھی ، نہ عدل کا نظام سمجھا ، نہ طب نبوی کو ازبر کیا ، نہ تعزیرات اسلام پہ توجہ دی ۔  ثواب کی گنتی دس گنا اور ستر گنا ، ایک ایک لفظ کے بدلے نیکیوں کا شمار کرتے کرتے ، قرآن کو غلاف چڑھا کر طاقوں میں سجا ڈالا ۔ کل ایک عالم دین نے اللہ کے حبیب کی بھیڑیوں  سے بات چیت کی کہانی سنا ڈالی ۔ معلوم نہیں ، اسے دین کی خدمت کہا جائے یا دین سے لا علمی کا نام دیا جائے ۔
امت مسلمہ کو وہ بتائیں  ، جو اللہ کے رسول کی بعثت کا سبب ہے ، جس کے لئے قرآن کا نزول ہوا ۔  جس سے کفر کا تسلط ٹوٹے ، جس سے خود انحصاری کا راستہ ملے ۔ قرآن کو ، اسوہ حسنہ کو عملی زندگی کا حصہ بنا سکیں ۔ فرقہ پرستی سکھانے کے لئے فقہ نہ پڑھی جائے بلکہ طرز معاشرت کے لئے استفادہ کیا جائے ۔ ہماری پہچان اسلام ہے مسالک نہیں ۔  ہمارا دستور قرآن ہے ، علماء کی مکتوب نہیں ۔ ہمارا رہبر اللہ کا حبیب ہے ، اسی پر اکتفا سے درست سمت ملے گی ۔ اختلافی تحقیق کا رحجان ختم ہو گا تو اسلام کی اصل تعلیم سمجھ آئے گی ۔ اسی سے کفر کے فتووں کا شوق ختم ہوگا ۔ اسی سے اجتماعی سوچ جنم لے گی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment