" اب چیختے کیوں ہو "
مجھے اور آپ کو وقت ہی نہیں ملتا کہ ہم سوچیں ، آخر وہ کونسا جن آزاد ہو گیا ، جو قابو ہی نہیں آ رہا ۔ جس کے سامنے ہر کوئی بے بس ہو چکا ہے ۔ آخر ہم سے کیا بھول ہو گئی کہ اللہ کے ہاں دعاوں کی قبولیت بھی نہیں ہو رہی ۔ امن کی بھاشا سمجھ آنا بند ہو گئی ، اخوت کا درس دینے والے مذہب میں فرقہ پرستی کی نہ ٹوٹنے والی فصیلیں تعمیر ہو گئیں ۔ عدل کرنے کی کرسی پہ بیٹھا قاضی طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہو کر برائی کو تقویت دے رہا ہے ۔ ملک لٹتا دیکھ کر عسکری تمغوں سے سجے سینے بھی کانپتے ہیں ، اور جراتمندانہ قدم نہ اٹھانے میں عافیت سمجھتے ہیں ۔ کیا تعجب کہ دین سکھانے والے جمہوریت کے لئے جان دینے پر آمادہ ہیں ۔ یہ جن ہے جمہوریت کا جن ۔ جس نے ہم سے اسلام کی راہ چھڑا دی ۔ بد کردار لوگوں کے ھاتھ مضبوط کر دئے ۔ اللہ کے قانون کی جگہ انسان کا مصلحت کیش قانون نافذ کرا دیا ۔ اس جن کی طاقت ہم ہیں ۔ اس دیوی کی پوجا ہم کرتے ہیں ، اسکے نفاذ کو ایمان کا درجہ ہم نے دیا ۔ مرکزیت کا اسلامی تصور عملی زندگی سے نکال ڈالا ۔ اب چیخنے چلانے سے کیا حاصل ۔ اب امیدیں باندھنے سے کیا ملے گا ۔
ہمیں اگر کچھ کرنا ہے تو اس آزاد جن کو روکنا ہو گا ۔ اسلام کی فلاحی زندگی کیطرف قدم بڑھانا ہو گا ۔ ایک سے ایک اگاہی کا زنجیر جوڑنا ہو گا ۔ ھاتھوں میں ھاتھ دے کر ، کندھے سے کندھا ملا کر ، اخوت کی جوت جگا کر ، آگے بڑھنا ہو گا ۔ اس جن کی شکست ہی ہماری بقا ہے ۔ یا آگے بڑھو یا چیخنا چھوڑو ۔
شکریه
ازاد ھاشمی
Wednesday, 29 March 2017
اب چیختے کیوں ہو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment