Wednesday, 29 March 2017

سیاست میں اخلاقی پستی

" سیاست میں اخلاقی پستی "
ہم سمجھتے تھے کہ سیاست میں جو لچر پن ہمارے وطن کا معمول بن گیا ہے ، وہ کہیں اور نہیں ۔ مگر جب امریکہ کے صدارتی امیدواروں کو  ایک دوسرے کے سامنے ناچتے دیکھا ، تو ایسے لگا کہ سیاست کا تہذیب سے کوئی رشتہ ہی نہیں ۔
ماضی میں گلی محلوں کے غنڈوں کا لب و لہجہ ، عادات اور اخلاق باختہ طرز تکلم نا پسندیدہ ہوا کرتا تھا ، آج یہ انداز ہمارے بڑے بڑے لیڈروں نے اختیار کر رکھا ہے ، سیاسی کارکنان  اپنے مخالفین کی عزت و آبرو کو میڈیا پر اچھال رہے ہیں ۔  مخالف سیاستدان کی بہن  بیٹی پر طعنہ زنی عام ہے ۔ 
غور کریں تو  ایسے لگتا ہے کہ سیاست سے وابستہ اکثریت اخلاقیات نام کی کسی بھی شے سے اگاہ ہی نہیں ۔
ایک با شعور شہری کو فکر کرنا چاہئے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اپنی تقدیر دینے جا رہے ہیں ، وہ کس قماش کے لوگ ہیں ۔ اور ہماری نسلوں کو کس گڑھے میں ڈبویئں گے ۔
نہ صرف یہ کہ سیاسی میدان   گندگی کا ڈھیر  بن گیا ہے ، ہمارے دانشور ، میڈیا کے کرتا دھرتا ، صحافت سے منسلک لوگ ، حتیٰ کہ مذہب سے وابستہ وہ تمام لوگ بھی اسی رنگ ڈھنگ کا شکار نظر آتے ہیں ، جنہوں نے اپنے آپ کو سیاست سے جوڑ رکھا ہے ۔
اگر ہمیں اپنی نسلوں کا مستقبل عزیز ہے تو ان  اخلاق باختہ لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment