" غلام لوگ "
کہتے ہیں کہ غلام رکھنے کا دور انسانیت کی توہین کا بد ترین دور تھا ۔ غلام کے کوئی حقوق نہیں تھے ، وہ انسان ہونے کے باوجود جانوروں سے بد تر سلوک سہتا تھا ۔ آقا کی خوشی اسے کچھ استراحت دیتی تھی اور ناراضگی ایک عذاب کا پیغام ہوا کرتی تھی ۔
یہ دور کب شروع ہوا ، اسکی تاریخ تو کافی قدیم ہے ۔ مگر کب ختم ہوا ، اسکی تاریخ کسی کو یاد نہیں ۔ کیونکہ اسکا خاتمہ کبھی نہیں ہوا ۔ مہذب قومیں ، جو انسانی زندگی اور انسانی حقوق کا راگ الاپتی رہتی ہیں ، آج بھی غلام رکھے بیٹھی ہیں ، آج بھی غلاموں پر ویسے ہی مظالم روا رکھے جاتے ہیں ، جو زمانہ قدیم میں تھے ۔ انفرادی غلامی تو ایک فرد پر مشق ستم ہوا کرتی تھی ، آج پوری پوری قوم غلام ہے ۔ آج کی سپر طاقتیں آقا ہیں اور قومیں غلام ۔ جب بھی آقاوں کی ناراضگی ہوتی ہے پوری پوری قوم عتاب کا شکار ہو جاتی ہے ۔ ان غلام قوموں میں عموماً مسلمان ہیں ، جن پر آقاوں نے اپنے پالتو بٹھا رکھے ہیں ۔ اور وہ آقاوں کی رضا پر کچھ بھی کر جاتے ہیں ۔ تجزیہ کریں تو شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ اسوقت تمام امت مسلمہ پر انہی آقاوں کے گماشتے حکمران ہیں ۔
ہم نے اللہ کی غلامی ، اللہ کے حبیب کی غلامی ، صالحین کی غلامی ، سے بھاگنے کی سعی کی ، اور اس اذیت میں گرفتار ہو گئے ۔ اگر ہم اسی غلامی میں رہتے تو آزاد ہوتے ، معتبر ہوتے ، با عزت ہوتے ، توقیر ہوتی ۔
مگر ہم نے ایسا نہ سوچا ، نہ سمجھا اور نہ اپنایا ۔ خود بھی غلام ، آنے والی نسلیں بھی غلام ۔ نہ سوچنے کی آزادی ، نہ مذہب کی آزادی ، نہ اپنی پسند کا نظام ، نہ اپنی پسند کی تعلیم ۔
ہم مسلمان ہیں غلام لوگ ۔ ہم سوچنے سمجھنے سے عاری لوگ ۔ خودی اور خودداری سے محروم لوگ ۔
ازاد ھاشمی
Monday, 27 March 2017
غلام لوگ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment