Wednesday, 29 March 2017

کرپشن کے ثبوت نہیں ہوتے

" کرپشن کے ثبوت "
سیاسی لوگ عقلمند ،  شاطر ، ذہین اور پلانر اسلئے ہوتے ہیں ، کیونکہ عوام احمق ہوتی ہے ۔ عوام میں فیصلہ کرنے کی اہلیت کا فقدان ، ایسی خرابی ہے جو تمام شاطروں کی چالوں کو کامیاب کرتی ہے ۔  کچھ عرصے سے ایک نیا کھیل شروع ہوا ہے ، وہ ہے سیاستدانوں کی کرپشن کے ثبوت ۔  ہماری سادگی کی انتہا ہے ، ہم سمجھے بیٹھے ہیں کہ اب ثبوت بھی مل جائیں گے اور عوام احتساب ہوتا بھی دیکھے گی ۔ ہم ابھی تک یہی فیصلہ نہیں کر پائے کہ کرپشن کی حدود کیا ہیں ۔ پھر ثبوت کیسے مل سکے گا ۔ کرپشن کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ ایسی تمام مراعات سے مستفید ہونا ، جو خدمات سے تجاوز کریں ، کرپشن ہے ۔  ہمارا ہر اسمبلی کا رکن  ، ہر بیورو کریٹ ، ہر ادارے کا اعلیٰ افسر ، تمام ارباب اختیار اس کرپشن کا حصہ ہیں - ملکی وسائل کا ذاتی استعمال کرپشن ہے ۔ اپنے فرائض سے پہلو تہی کرپشن ہے ۔
سادگی کی انتہا ہے کہ ہم ملکی وسائل سے لوٹی ہوئی دولت کے ثبوت ڈھونڈھنے نکلے ہیں ۔ لوٹی ہوئی ، چوری کی ہوئی ، غبن کردہ دولت نہ تو بنکوں سے جاتی ہے ، نہ کوئی رسید ہوتی ہے ، نہ کوئی دوسری دستاویز ۔ بریف کیسوں میں جانے والی رقوم ، ملکی ترقیاتی سکیموں پہ حاصل کیے  جانے والے کمیشن اور کک بیک ثبوت سے خالی ہوتے ہیں ۔ایسے لگتا ہے ، تمام عدالتی اہلکار ، خفیہ تحقیقاتی ادارے ، سیاستدان اور میڈیا  کے دانشور عوام نام کی مخلوق کو وہ خواب دکھا رہے ہیں ، یا ذہین ڈاکٹروں کی طرح مرنے والے مریض کو تسلیاں دے رہے ہیں ۔ اچھی طرح جان لیں ، کرپشن کے ثبوت کبھی نہیں ملا کرتے ۔ لوٹی ہوئی دولت کبھی واپس نہیں آتی ۔  قوم اگر مخلص ہے ، تو صرف ایک کام کرے کہ وہ راستہ اختیار کر لے جو ان تمام مسائل کا حل ہے ۔  اور وہ ہے نظام اسلام ۔ باقی سب کہانی ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment