Tuesday, 28 March 2017

بھیک

" بھیک "
خود داری اور اللہ کی قدرت پر توکل کا جنازہ اس وقت بڑی دھوم سے نکل جاتا ہے ۔ جب ہمارے حکمران بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے فلاں دوست ملک نے اتنی امداد دی ہے ۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ ہمارے حکمران کاسہ گداگری لے کر کبھی امریکہ کے سامنے دو زانو بیٹھے ہوتے ہیں  ، کبھی چین اور کبھی سعودیہ کے چرنوں میں ۔
ہم مانگنے پر کیوں مجبور ہوئے ، اللہ نے ہمارے ہاتھوں کاسہ گدائی کیوں تھما دیا ۔ کبھی سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئی ، اس گداگر کی طرح جس نے گداگری کو پیشہ بنا رکھا ہو ۔ اسے نہ شرم آتی ہے اور نہ احساس باقی رہتا ہے ۔
اللہ کے احکامات سے سرکشی کی سزا ہمیشہ رسوائی اور رزق میں قلت ہوا کرتی ہے ۔ وہی ہم بھگت رہے ہیں ۔ ہم سود پر اٹھائے قرض کی لعنت کو اپنے گلے میں ڈال کر اللہ سے مخاصمت کر رہے ہیں ۔ اللہ نے منع کیا اور ہم نے عذر بنا کر اسکے حکم کو پس پشت ڈالا ۔ یہ سارے قرضے نہ ملکی مسائل کا حل نکال سکے اور نہ ہی ایسی ترقی ہوئی جس کا ہم سوچے بیٹھے تھے ۔
آج ہماری عزت ایسے ہے جیسے کسی گاوں میں ایک بھکاری کی ہوتی ہے ۔
جب اللہ نے ہمارے لئے ہر ضرورت پوری کرنے کے وسائل  ، معدنیات کے خزانے عطا کر رکھے ہیں ۔ پھر بھی ہم بھیک مانگ رہے ہیں تو یقیناً اللہ کی ناراضگی خرید چکے ہیں ۔
لمحہ فکریہ ہے ہر ذی شعور کے لئے ، ہر سیاستدان کے لئے ، ہر مذہبی رہنما کے لئے۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment