" اس بار عید پہ "
چند دن بعد عید کا دن ہو گا ,ہر آنگن میں خوشی کا اہتمام ہو گا - زرق برق لباس , مہندی , چوڑیاں , خوشبوئیں , عیدی اور مسکراہٹیں , معانقے اور دعوتیں ہوں گی - ماتحت اپنے افسران کے گھروں میں تحفے اور مٹھائیاں لے کر جاینگے - لیڈر جھوٹی مسکراہٹیں بانٹتے پھریں گے - اخبارات اور میڈیا پر خیرات کے سیشن بھی ہونگے -
ایسی خوشی میں چند گھروں میں آنسو اور اداسی ہو گی - وہ بچے جن کے باپ دہشت اور ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے , وہ سہاگنیں جن سے سہاگ چھن گئے , وہ مائیں جن کے لخت جگر مٹی میں جا سوے - در و دیوار کو حسرت سے دیکھ رہی ہونگی -
ایسے تہوار پہ کونوں پہ کھڑے , پراگندہ لباس پہنے , قمیض کا دامن مروڑتے ہوۓ , چند معصوم بھی ہونگے - جنھیں نہ کوئی عیدی دینے والا ہو گا , نہ سینے سے چپکانے کو کوئی آگے بڑھے گا -
عید کی نماز پہ آخری صفوں پہ کھڑے غریب بھی ہونگے جو خطبہ ختم ہوتے ہی کھسک لیں گے - کیونکہ انہیں پتہ ہے ان سے کوئی بغلگیر نہیں ہو گا -
ایسے سفید پوش بھی ہونگے جو اپنا بھرم بچانے کی فکر میں لگے ہوں گے -
کیا اچھا ہو , اس عید پہ رسمیں بدل ڈالیں - اپنے ارد گرد میں , ہر آنگن میں عید ہی عید ہو جاے - صرف فطرانہ بانٹ کر بری الذمہ نہ ہوا جاے - بہت قیمتی نہ سہی عام سے لباس غریب بچوں کے تن پہ پہنا دیے جایئں - عید کے لئے کھانے پینے کے لوازمات ان گھروں میں پہنچا دیے جو ہمارے ارد گرد ہیں -
کسی گھر میں بھائی بن کر , کسی ماں کا بیٹا بن کر -
ایک نئی رسم ڈال دی جاے کہ پہلے آخری صفوں کے غریبوں کو سینے سے لگائیں - اب کے مٹھائیوں کے ڈبے غریبوں کے گھروں میں جایں - افسران کی چاپلوسی کیلیے نہیں - اس عید کا لطف شاید پہلے کبھی کسی عید پہ نہیں آیا ہو گا - ایک استراحت جو پہلے کبھی محسوس نہیں کی ہو گی اس عید پہ ملے گی - مایوس چہروں پہ پھیلی ہوئی خوشی دیکھ کر جو عید ہو گی - حقیقی عید ہو گی -
آئیے اس رسم کو شروع کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
اس بار عید پہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment