Monday, 27 March 2017

ووٹ ہے کیا

" ووٹ ہے کیا "
میرا ذاتی خیال ہے کہ ہماری قوم کو آج تک سمجھ ہی نہیں آیا کہ ووٹ ہے کیا - ایک پرچی جو ہر پانچ سال بعد کبھی ہم خود ایک بکس میں ڈالتے  ہیں کبھی خود بخود ڈل جاتی ہے - اور پھر یہ پرچیاں گن لی جاتی ہیں - جس کے نام زیادہ نکلیں گی , وہ جیت جاتا ہے - بس - جمہوریت کا کام ختم - اور ہمارا مقدس فریضہ مکمل -
میری ناقص عقل کے مطابق , ووٹ ضمیر کی آواز ہوتی ہے , اور ضمیر سو نہ گیا ہو یا مر نہ گیا ہو - یہ آواز کبھی منفی نہیں ہوتی - یہ کبھی غلط فیصلہ نہیں ہونے دیتی - اب جو  فیصلے  ہمارے ووٹ کر  رہے ہیں , زندہ  ضمیر کے ہو  نہیں  سکتے  -
یہ بھی سنتے رہے ہیں کہ ووٹ مقدس امانت ہے , تو ہر مقدس چیز کو گندگی سے دور رکھا جاتا ہے - ہم نے یہ مقدس امانت گندگی   میں ڈال دی - اب  یه مقدس  بھی  نہیں  -
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ شعور مند لوگوں کی رائے ہوتی ہے - حقیقت یہی ہے کہ یا تو یہ ذمہ داری بے شعور لوگوں کے پاس چلی گئی ہے یا پھر شعور یرغمال بن چکا ہے -
جو کچھ بھی ہے  ووٹ  کی نہ کوئی حرمت باقی ہے - بلکہ جمہوریت کی بد ترین شکل کا کھلا نقشہ ہمارے سامنے آ چکا ہے -
ہم تو عام شہری , حکمرانوں کے سامنے بے بس ہو ہی چکے ہیں - حیرانی یہ ہے کہ جن لوگوں نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ ذاتی مفادات کو قومی اور ملکی مفادات پہ ترجیح نہیں دینگے - وہ قوم اور وطن سے تو بیوفائی کر ہی رہے ہیں - الله کی کتاب پہ کیے گئے عہد کا ہی پاس رکھ  لیں - قوم کو اتنی ہی آگاہی دے دیں کہ وہ ووٹ کو پرچی نہ سمجھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment