" یوم عزم مصمم "
قوموں کی تاریخ قرار دادوں سے نہیں ، ارادوں کی پختگی ، اتحاد اور ایمان سے بنا کرتی ہے ۔ ایک ایسا ہی ارادہ ، ناقابل شکست ارادہ ، اسلام کی محبت سے سرشار لوگوں نے ظاہر کیا ۔ ایک ایسے وطن کا ارادہ جس پہ اپنی حکمرانی ہو گی ، پاک خصلت لوگوں کی اپنی سر زمین کا ارادہ ، اللہ اور اللہ کے رسول کے نظام والی مملکت کا ارادہ ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ، ایک ناقابل یقین انسانوں کا سیلاب امڈ آیا کہ ہندو کے قدم بھی لرز گئے ، قابض انگریز بھی سوچ میں پڑ گیا ۔ پوری دنیا حیران تھی کہ یہ ولولہ ، یہ ترنگ ، یہ ہمت اور یہ اتحاد ، کہاں دفن تھا ، جو اس قوت سے ابھرا ہے ۔
ہمیں وطن مل گیا ، اپنا آزاد وطن ۔
پھر ہم نے کیا کیا ، اپنے ارادوں کو گہری نیند سلا دیا ۔ بھول گئے کہ یہ سر زمین کیوں حاصل کی تھی ۔ جسم آزاد ہو جانے سے قومیں آزاد نہیں ہوا کرتیں ۔ ذہن آزاد ہونے سے آزادی نصیب ہوتی ہے ۔ ہم نے کچھ نہیں بدلا ، قانون انگریز کا ، سوچ انگریز کی ، تمدن انگریز کا ، لباس انگریز کا ، تعلیم انگریز کی ، زبان انگریز کی ، کیا بدلا ۔
اسی کے پالتو حکمران بنتے رہے ، ہمارا وطن لوٹ لوٹ کر انہی کے خزانوں میں جمع ہوتا رہا ، عدالتیں اسی طرح غریب کا استحصال کرتی رہیں ۔ جاگیردار کون تھے ، سیاسی گھرانے کون تھے ، بیورو کریسی پر کون براجمان تھے ، سب انگریز کے کاسہ لیس ، سب انگریز کے ایجنٹ ، آج بھی انہی کی اولادیں حکمران ہیں ۔ کیا ہوا ہماری آزادی کا ۔
صرف آزادی سے گائے کاٹ لینا ہی مقصود تو نہیں تھا ۔ مساجد میں اذانیں دینا تو ارادہ نہیں تھا ، لاالہ الااللہ کو نافذ کرنا تھا ۔ کیا ہم بھول نہیں گئے ، کیا ہم نے اپنے اسلاف کی توہین نہیں کی ، کیا ہم نے یوم عزم کی روح دفن نہیں کر دی ۔
پروگرام بنانا ، جھنڈے لہرانا ، تصویریں چھاپنا ، رقص کر کے خوشی کا اظہار کرنا اور متضاد عمل ، منافقت نہیں تو کیا ہے ۔
آئیں ، اپنا اپنا احتساب کریں ۔ ایک اور قرارداد منظور کریں ، اپنے احتساب کی ۔ پھر نعرہ لگائیں ، لا الہ الاللہ ۔
ازاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
یوم عزم مصمم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment