Saturday, 24 November 2018

عید میلاد النبیؐ اور ہم

" عید میلاد النبی اور ہم "
اس میں کیا شک کہ اس کائنات کا حسن ہی " اللہ کے حبیب " کی ذات سے ہے . ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے آپ کی مبارک ذات سے ہدایت کی روشنی میں تبدیل ہوئے . ایک مسلمان کیلئے یہ دن عید ہے اور عید ہونا چاہئیے . ہم جو بھی عیدیں  مناتے ہیں , سب آپ صل اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے ملی ہیں . اسلئے خوشی منانی چاہئیے اور بھر پور انداز میں منانی چاہئیے . فروعی اختلافات کیا ہیں , دلائل کیا ہیں , تاریخ کیا ہے , روایات کیا ہیں , مفتی کیا کہتے ہیں . سب جو بھی کہیں , عید میلادالنبی عشق رسول کا حصہ ہے .
یہاں جو امر سب سے زیادہ اہم ہے , وہ ہے عشق رسول صل اللہ علیہ وسلم . مگر عید میلادالنبی منانے میں راگ اور رنگ کا ملاپ آپ کے اسوہ کی ضد ہیں . یہ عشق نہیں آپ کے تقدس اور مقام کی کھلی تضحیک ہے . عید یہ ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہم گمراہی سے نکلے , مسلمان ہوئے اور اللہ کے کامل دین میں  داخل ہوئے .  اگر ہم گمراہوں کے طرز اور بود باش کیطرح عید میلاد النبی منائیں گے . ایک وقار سے گر جائیں گے . تو  آپ ص کی حقیقی شان کی نفی ہو گی . خیال رکھنا ہو گا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی حدود میں رہ کر خوشی کا اظہار کریں . خیرات کریں , یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں , اخوت اور یگانگت کا ماحول بنائیں , کسی کی دل آزاری نہ کریں . گویا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اختیار کریں . جلسے کریں , جلوس نکالیں مگر کوشش کریں کہ کسی کی دل آزاری اور بغض آپ کے مزاج سے الگ ہو جائے . رحمتیں لوٹتے ہوئے , زحمتیں بانٹنے سے بچیں . یہ وہ اسوہ ہے جو اپنانے سے , جسے اختیار کرنے کا عہد کرنے سے عید میلاد النبی  کا رنگ مزید نکھرے گا . آپ کے ہاتھ اور زبان سے خوشیاں تقسیم ہوں , تو آپ کی عید کے ساتھ دوسروں کی بھی عید ہو جائے گی . ایسا ماحول بنانے سے اگلے سال وہ بھی عید کا انتظار کریں گے , جو ابھی اگاہ نہیں کہ نبی کی میلاد کا دن بھی عید ہی ہوتا ہے .
ازاد ھاشمی
21 نومبر 2016

گنتی تو یاد ہوگی

" گنتی تو یاد ہوگی "
مشرقی پاکستان بننے جا رہا تھا , تو ہمارے پاس ایک دلیل باقی تھی کہ ہم یہ جنگ کبھی نہیں ہارتے , اگر پاکستان سے دوری نہ ہوتی . مکتی باہنی کی کامیابی ہماری کمزوری نہیں تھی , یہ مقامی لوگوں کی غداری تھی , جس نے ہمیں جنگ ہارنے پر مجبور کیا . پاکستان کی بہادر افواج کی قابلیت اور ذہانت کی پوری دنیا مداح رہی . عوام کے دلوں کی محبت کا تصور بھی ممکن نہیں , جو پاک فوج سے اسوقت تھی . مجھے یاد ہے کہ مجھے اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ , جنگ رکنے کے بعد تیسرے روز لاہور شہر میں داتا صاحب کے ایریا میں آنا پڑا . ہم دونوں محاذ پر کیما فلاج کی  حالت میں ہی شہر آ گئے . لوگ دیوانہ وار  پھولوں کے ہار لا لا کر ہمارے گلے میں ڈالتے رہے . مجھے وہ بوڑھی ماں بہت یاد آتی ہیں جو ہم دونوں کو بار بار گلے لگاتی رہیں اور دعائیں دیتی رہیں . کبھی ماتھا چومتیں , کبھی گال اور کبھی وردی . پھر پاکستان کی شرمناک شکست کے بعد , کبھی وردی میں شہر کیطرف آنے کی جرات نہیں ہوئی .
اب پاکستان کی ان حدود کے اندر , جہاں نہ مکتی باہنی ہے , نہ زمینی فاصلے وجہ ہیں . جہاں چپہ چپہ پاکستانی فوج کی دسترس میں ہے . مٹھی بھر دہشت گرد , جن کے وسائل کسی طور ہماری فوج کے برابر نہیں . سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی افسر کی شہادت کی خبر مل جاتی ہے . اسے کیا کہنا چاہیئے . میرے بہادر فوج کے سالاروں کو ان شہداء کی گنتی تو یاد ہو گی . اس دہشت گردی کو طول ملنے کا کوئی تو سبب ہوگا . میری اور آپکی بہنیں , بیٹیاں کب تک سہاگ لٹاتی رہیں گی . مائیں کب تک اپنی اجڑتی کھوکھ پر روتی رہیں گی . معصوم بچے کب تک یتیم ہوتے رہیں گے . اس کھیل کا آخری راونڈ کھیلنے میں تردد کیوں . آج فوج پر قوم کو کتنا بھروسہ باقی  رہ گیا ہے . اب  کتنے افسروں اور جوانوں کے گلے میں قوم ہار ڈالتی ہے . کبھی وقت ملے تو ضرور سوچیں . کبھی خیال آئے تو اس کھیل کو آخری بار کھیل جائیں . قوم کے تھکنے کا انتظار نہ کریں .
ازاد ھاشمی
23 نومبر 2017

Sunday, 18 November 2018

بچی ہوئی ہڈیاں

" بچی ہوئی ہڈیاں "
ہم لوگ عجیب مزاج کے عادی ہو گئے ہیں . سڑک پہ بھیک مانگنے والے کی ہتھیلی پہ چند سکے رکھنے سے پہلے اسکا پورا معائنہ کرتے ہیں کہ آیا وہ ہماری خیرات کا مستحق ہے یا نہیں . کبھی نہیں سوچتے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں جو ایک انسان کو ہاتھ پھیلانے کی حالت تک لے آیا . اگر معاشرے کے مخیر اور متوسط لوگ سوچیں تو انکے ارد گرد صرف چند لوگ ہونگے جن کو مانگنے کا خبط ہوگا یا ضرورت ہو گی . ایک قصبے یا ایک شہر میں ان مانگنے والوں کا تناسب  ایک فیصد سے بھی کم بنے گا . آخر ہم اسقدر بے حس کیوں ہوگئے ہیں کہ سو انسان مل کر بھی ایک انسان کی لازم ضروریات کا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتے . گویا گدا گری کا اصل محرک معاشرہ ہے . میں ہوں آپ ہیں . جہاں تک پیشہ ور بھکاریوں کی بات ہے , اگر ہم لوگ اپنے اپنے حلقہ میں متحرک ہو کر ضرورت مند بھکاریوں کی ضروریات پورا کرنا اپنا فرض بنا لیں . تو پیشہ ور بھکاری از خود ختم ہو جائیں گے . ثواب کمانے کی ایک نئی روایت جنم لے رہی ہے کہ آپ اپنے گھر کا بچا ہوا کھانا " کھانا بینک " میں جمع کرا دیں . جہاں سے بھوکے افراد کھانا لیکر شکم سیری کریں گے . ایک بات تو بہتر ہے کہ کھانا ضائع نہیں ہوگا اور ضرورت مند تک پہنچ جائیگا . مگر اس سے بہتر ہے کہ ہر ضرورت مند کی کفالت لیکر ہم گھر گھر میں بندوبست کر دیں . اپنے دروازے ہر بھوکے پر کھول دیں , جہاں عزت اور احترام کے ساتھ , کسی کی عزت نفس کو مجروح کئیے بغیر شکم سیری کی سہولت مل جائے . ریسٹورنٹ کے باہر بھوکے لوگوں کی قطار گننے سے کہیں بہتر ہے کہ یہ بھوکے اپنے اپنے دستر خوان سجانے کے قابل ہو جائیں . ہمارے دین کی تعلیم ہے کہ جب خیرات کرو تو اپنی بہترین چیز سے خیرات کرو اور اسطرح خیرات کرو کہ داہنے ہاتھ سے دی گئی خیرات کا باہنے ہاتھ کو پتہ نہ چلے . پیشہ ور بھکاری اسوقت بنتا ہے جب اسکے عزت نفس مر جاتی ہے . اور اسکے ذمہ دار ہم ہیں . بچی ہوئی ہڈیاں بانٹنے سے ثواب تو مل جاتا ہو گا , مگر بھیک کی عادت نہیں روکی جا سکتی .
بیشتر اس سے کہ کوئی ضرورت مند ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہو جائے اسکی حاجت پوری کرنا اصل نیکی ہے . معاشرہ پر احسان ہے اور اللہ کی رضا کا حصول ہے .
ازاد ھاشمی
18 نومبر 2017