" کرپشن کا سد باب "
قوم وسوسوں کا شکار ہوگئی ہے کہ دی جانے والی سزا جائز تھی یا ناجائز ۔ حقائق کیا ہیں ، اور اس فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہونگے ۔
کچھ ایسے لگ رہا ہے کہ قوم تقسیم در تقسیم ہو جائے گی ۔ بند کمروں میں کی جانے والی تحقیقات کا یہی انجام ہوا کرتا ہے ۔ ایک مجرم کو سزا ملنی چاہئیے ، یہ ملک کے بہترین مفادات کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ یہ امید خوش آئیند ہے کہ یکے بعد دیگرے سب کرپٹ اس شکنجے میں کس دئیے جائیں گے ۔ اور انہیں عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا ۔ ملک کی سلامتی کیلئے ضروری ہے ۔
انتخابات کے فور ی بعد بہت سے کرپٹ اسمبلی میں پہنچ جائیں گے ۔ احتساب کرنے والے جانتے ہیں کہ موجودہ انتخابی معرکے میں اکثریت کرپٹ ہے ۔ کیا کرپشن کے سدباب کیلئے ضروری نہیں تھا کہ انکو قانون سازی کے اختیارات ملنے سے پہلے روک لیا جاتا ۔ جب یہ اسمبلی میں مل بیٹھیں گے تو کیا یہ احتساب کی کوشش کو سبوتاژ نہیں کریں گے ؟
کرپشن کے سد باب کیلئے تو جڑیں کاٹنا ہونگی ۔ ایک ایک شاخ کاٹنے سے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی ۔ایک پرانی شاخ کٹے گی تو دس نئی اگ آئیں گی ۔ کیا قوم ایسے ہی بیوقوف بنائی جاتی رہے گی ۔
احتساب کرنے والے اکثر اہلکار بھی اسی چھلنی سے گزارنے کی ضرورت تھی ۔ کتنے ہی محتسب ایسے ہونگے ، جن کے اپنے اثاثے آمدن سے کئی گنا زیادہ ہونگے ۔ جب فصل کو بچانا ہو تو خود رو جڑی بوٹیاں تلف کرنا پڑتی ہیں ۔ کیا ہم نے اسکا کچھ سوچا ہے ؟ یا اسی طرح ایک سیاستدان کو پکڑیں گے اور کئی سال اسی کو گھسیٹتے رہیں گے ، اسطرح تو قیامت تک احتساب ممکن نہیں ہوگا ۔ ایک عدالت سزا دے گی ، دوسری اپیل سنے گی ، دوسری عدالت سزا کی توثیق کر دے گی تو تیسری اپیل سنے گی گویا ایک ہی کیس دس پندرہ سال لٹکے گا ۔ یہ بھی کرپشن ہی ہے ۔ اسکا تدارک بھی ہوگا تو کچھ آسانی ہوگی ۔ تھوڑی سی جھاڑ پونچھ ہوتے ہوتے ، جج ریٹائر ہو جائے گا ، نیا آنے والا کسی دوسرے کرپٹ کا رشتے دار نکلے گا اور پھر وہی کھیل شروع ہو جائے گا ۔ کرپشن میں کتنے لوگ ملوث ہوتے ہیں ۔ ان سب سے درگذر کرنا بھی عدل کے راستے کا پتھر ہے ۔ کرپشن کا سدباب کرنے میں قوم کو متحد ہونا ہوگا ورنہ کرپشن کبھی ختم نہیں ہوگی ۔
آزاد ھاشمی
٧ جولائی ٢٠١٨
Saturday, 7 July 2018
کرپشن کا سدباب
دماغ خراب ہے
" دماغ خراب ہے "
بابا جی نے پکوڑوں کا پیکٹ گاہک کے ہاتھ واپس لیا اور اپنے پاس رکھ لیا ۔ نوجوان گاہک اور دوسرے سب موجود بابا جی کی حرکت پر پریشان بھی تھے اور حیران بھی ۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیا ہوا جس نے باباجی کو اتنا برہم کر دیا ۔
" کیا ہوا بابا جی "
میں نے پوچھ لیا ۔
" میرے دیس کو گالی دیتا ہے کم بخت ۔ میری دھرتی کو برا کہتا ہے ۔ "
باباجی خون اگلتی آنکھوں سے نوجوان کو دیکھتے ہوئے بولے ۔
" بزرگو ! کیا دیا اس دیس نے آپکو ۔ اس عمر میں بھی پکوڑے بنا کر پیٹ پال رہے ہو ۔ کل اسی ریہڑی پر مر جاوگے اور کفن کیلئے چندہ اکٹھا کرنا پڑے گا "
ایک اور جوان بول پڑا ۔ خلاف توقع بابا جی خاموش رہے ۔ لمبی سانس لی ، پانی کے دو گھونٹ پئے اور پسینہ پونچھتے ہوئے ، کڑاہی کے نیچے چولہا بند کر کے ، سٹول پر بیٹھ گئے ۔
" پاگل ہو گیا ہے بڈھا ۔ "
ایک ایک کرکے سارے گاہک چلتے بنے ، میری شناسائی دوستی کی حد تک تھی ۔ آج کا رویہ میرے لئے بھی سوال تھا ۔ اس کی ساری دنیا یہی پکوڑوں والی ریہڑی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن اسکی زندگی کا سامان تھا ۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ اس عمر میں یہ کشاکشی ایک امتحان تھی ۔ بابا جی کا چہرے پر زردی ابھر رہی تھی ۔
" لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا دیا اس دیس نے مجھے ۔ " بابا جی نے آنسو روکنے کی کوشش کی ۔ مگر نہ روک سکے ۔
" ہم کیسے لوگ ہیں بیٹا ! نہ عقل نہ شعور ۔ ہم وطن سے مانگتے ہیں ۔ جو قومیں دیس کی مٹی سے بھی مانگنے لگتی ہیں ، انکا انجام اچھا نہیں ہوتا ۔ دیس کو دیا جاتا ہے ۔ ہم نے کبھی سوچا کہ ہم نے دیس کو کیا دیا ؟ اس مٹی کو جو میرے اور آپ کیلئے اناج اگاتی ہے ، جو درخت اگاتی ہے کہ ہمیں چھاوں ملے ۔ جس کے سینے پر دوڑتے پانی سے ہم سیراب ہوتے ہیں ۔ دیس ہمیں پہچان دیتا ہے ۔ اور کیا چاہئیے ۔ میں پکوڑے بنا کر خوش ہوں ۔ نہ وطن سے شکایت ہے نہ قسمت سے ۔ اللہ نے مجھ سے یہی کام لینا تھا ، میں اسی کام کے قابل تھا ۔ جب مجھے شکایت نہیں تو ان نوجوانوں کو کیا تکلیف ہے ۔ یہ میرے وطن کو برا کہیں گے تو میں کیسے برداشت کر لوں ۔ یہ دھرتی میری ماں ہے ۔ اسے کوئی گالی دے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔ "
" روتا اسلئے ہوں کہ جب یہ وطن انکے ہاتھ میں آئے گا تو یہ وطن کا کیا حال کریں گے ۔ یہ تو نوچ نوچ کر کھا لیں گے اس وطن کو ، جیسے انکے باپ دادا کھا رہے ہیں ۔ یہی لوگ حکمران بنتے ہیں ۔ اسلئے صبر نہیں ہوتا " بابا جی نے پھر بلک بلک کر رونا شروع کر دیا ۔
" بیٹا ! جب یہ وطن بنا تھا تو راوی دریا میں پانی نہیں خون بہہ رہا تھا ۔ معصوم بچے برچھیوں پہ ٹنگے ہوئے تھے ۔ ہماری نوجوان بہن بیٹیوں کو سکھ چھین کر لے گئے تھے ۔ اس وطن کو نوچتے ہیں یہ کمینے "
بابا جی کی آنکھوں میں آزادی کے روز خون بہنے والا راوی دریا رواں تھا ۔
آزاد ھاشمی
٧ جولائی ٢٠١٨
Friday, 6 July 2018
عدل میں جھول ہے
" عدل میں جھول ہے "
عدل جرم کی مطابقت سے ملنے والی سزا کا نام ہے ۔ اور عدل کی ترازو میں اسی اعتبار سے ہر بڑے چھوٹے مجرم کو تولا جاتا ہے ۔ عدل کی دوسری ضرورت معاشرے کی اصلاح ہے ۔ اور فیصلہ ہمیشہ سخت ہونا چاہئیے کہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں ۔ نواز شریف کی سزا کیا ہے اور اسکا جرم کیا تھا ؟ ملک سے پیسہ چرانا اور بیرون ملک جائیداد بنانا ۔ یہ جرم تو بہت سارے دوسرے فوجی ، جج ، بیوروکریٹ ، سیاستدان ، جاگیردار اور کاروباری حضرات کر رہے ہیں ۔ کیا اس سزا کے متوازی عدل عمل انکے خلاف بھی جاری ہے یا نہیں ؟ نواز شریف کا دوسرا جرم اپنے عہدے کا ناجائز استعمال ہے ، تیسرا جرم وطن کو نقصان پہنچانا ہے اور ایک جرم کہ وہ ملکی دشمن سرگرم رہا ہے ۔ اگر یہ تمام جرائم درست ہیں تو پوری دنیا میں ایسے جرائم کی مروجہ سزا کیا ہے اور ہمارے وطن میں کیا ہونی چاہئیے ۔ پھر وہی سوال کہ انہی جیسے جرائم کرنے والے دوسرے بیشمار لوگوں کیخلاف کیا ایکشن لیا گیا ؟ جب عدالت کو معلوم تھا کہ مجرم سنگین مقدمات میں ملوث ہے تو از راہ ہمدردی اسے باہر کیوں جانے دیا گیا ، اگر جانے دیا گیا تھا تو اسکے واپس آنے کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا ۔ کیا ہمدردی ختم ہوگئی تھی یا اسے موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ دس سال کی قید لندن کی جنت میں بیٹھ کر گذارے ؟ رہی انکی بیٹی کی سزا ، تو میری ناقص رائے میں ، یہ انتقام نظر آرہا ہے انصاف نہیں ۔ اگر عدل ہے تو کیپٹن صفدر بھی اسی کشتی پر سوار تھا جس پر مریم نواز ۔ پھر کیپٹن صفدر پہ مہربانی کیوں ؟
مجھے نواز شریف سے قطعی کوئی وابستگی نہیں ۔ مگر اس عدل میں اسوقت تک جھول ہے ، جب تک دوسرے مجرموں کو اسی طرح عدل کی چھلنی سے نہیں گذارا جاتا ۔
آزاد ھاشمی
٦ جولائی ٢٠١٨
اللہ کب مدد فرماتا ہے
" اللہ کب مدد فرماتا ہے "
سورہ محمد ٧ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
" اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی ( دین میں ) مدد کروگے ، تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا "
جب بھی قرآن پاک کو انہماک سے پڑھتا ہوں ، ایمان میں پختگی بھی آتی ہے اور حیرانی بھی ہوتی ہے کہ اس کھلی ہوئی ہدایت کو ہم سمجھ کیوں نہیں سکے ۔ چودہ سو سال کی تہذیب و تمدن یکسر تبدیل ہے ۔ آج ہم جس دور میں رہتے ہیں ، ترقی کا عروج ہے ۔ مگر اسکے باوجود ہم چودہ سو سال تو کجا ، اگلے چودہ سال کا لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکتے ۔قرآن پاک نے کس آسان اور عام فہم طریقے سے آج کے مسائل کا حل بتا دیا ۔ مسلمانوں کو بہت واضع طریقے پر سمجھا دیا گیا ، کہ کسی خوش فہمی میں مت رہنا ۔ اگر تم اہل ایمان ، اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے عملی طور پر کچھ کرو گے ۔ تو اسی صورت میں اللہ تمہاری مدد کرے گا ۔ کہ تمہارے متزلزل ارادے ، شکست خوردہ حالات اور اکھڑے ہوئے قدم اسی شرط پر جمائے گا ۔ کہ تم اسکے دین کی سربلندی کے کام میں لگ جاو ۔
اگر اسی پس منظر میں غور کریں تو ہم نے اللہ کے دین کو حجروں میں بند کردیا ۔ اسکے پیغام یعنی قرآن پاک کو چمکتے ہوئے غلاف میں بند کیا اور طاق میں سجا دیا ۔ قسم کھانے کی ضرورت پڑی ، عدالت میں گواہی دینا پڑی ، کوئی وظیفہ کرنے کا ارادہ ہوا تو قرآن پڑھ لیا ۔ مولوی نے بتا دیا کہ اگر میرے بغیر سمجھنے کی کوشش کی تو بہک جاوگے ۔ ہم نے مان لیا اور اپنی زندگیوں سے اللہ کے دین کو نکال باہر کیا ۔ اللہ نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ، آج ہم مسلمان پوری دنیا میں رسوا بھی ہیں ، بزدل بھی اور زیر عتاب بھی ۔ ہمیں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ اللہ کی نصرت پانے کیلئے اسکے دین کی سربلندی کیلئے کام کرنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
٦ جولائی ٢٠١٨
Thursday, 5 July 2018
اللہ کا فضل و کرم مانگتا ہوں
" اللہ کا فضل و کرم مانگتا ہوں "
اے ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ،
اے کائنات کے تمام خزانوں کے مالک ، اے حاکم مطلق اور رحمتیں دینے والے خالق ۔
ہم تیرے بندے ، حرص اور طمع میں ڈوبے رہتے ہیں ۔ شکر کی عادت سے عاری ہیں ۔ تیری دی ہوئی نعمتوں کا شمار نہیں کر سکتے مگر پھر بھی شکر نہیں کرتے ۔ جو عطا ہوا ہے اس پر قناعت نہیں کرتے ۔ دوسروں کو ملنے والی نعمتوں پر حاسد ہو جاتے ہیں ۔ جو اچھا نظر لگے اسی کی طلب کرتے ہیں ، اسی کیلئے وظیفے کرنے میں لگ جاتے ہیں ۔ وہی خواہشیں دعائیں بن جاتی ہیں ۔ انہی کیلئے صدقات کی طرف رجوع کر لیتے ہیں ۔ یقین ہی نہیں کرتے کہ جو ہماری اصل ضرورت ہوگی وہ ضرور پوری ہو گی ۔ جو ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوگا ، تو نے وہی روک رکھا ہو گا ۔ تیری اس محبت کا یقین ہی نہیں ہوتا جو تو اپنے بندے سے کرتا ہے ۔ گناہوں کی دلدل میں ڈوبے ہوئے بندے کو نکالنے کا ہر وسیلہ عطا فرماتا ہے ۔ گناہوں کی گندگی میں لتھڑا ہوا تیرا بندہ ندامت کے دو آنسو بہا دے تو اسکے لئے بخشش کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ اگر کسی دعا کو قبولیت نہیں ملتی تو ہم شاکی ہو جاتے ہیں ۔
اے اللہ ! جانتا ہوں کہ کبھی کبھی دعاوں کے عین مطابق نہیں ملتا تو اداس بھی ہوتا ہوں ، مایوسی بھی ہوتی اور سوچتا بھی ہوں کہ دعا قبول کیوں نہیں ہوئی ۔
میں اپنے شعور اور سوچ کو تیری رضا کے تابع کرتا ہوں ۔ اسی پر راضی رہنا چاہتا ہوں جس پر تو راضی ہے ۔ نہیں چاہتا کہ کسی کو ملنے والی نعمتوں پر اپنے حق کا اصرار کروں ۔ بس تیرا فضل اور تیرا کرم مانگتا ہوں ۔ یہی مانگنا چاہتا ہوں ۔ یہی میرا حق ہے ، یہی میری دعا ہے اور یہی میری تمنا ہے کہ میرے اوپر ، میری اولاد کے اوپر ، میرے دوستوں کے اوپر اپنا فضل و کرم جاری رکھ ۔ ہماری لغزشوں کو معاف فرما ، ہمیں قناعت اور توکل کی دولت عطا کر ۔ اے اللہ قبول فرما ۔ قبول فرما ۔ قبول فرما
آزاد ھاشمی
٣ جولائی ٢٠١٨
حب الوطنی کا دوسرا تقاضا
" حب الوطنی کا دوسرا تقاضا "
قومی سوچ ، کسی بھی وطن کی اساس ہوتی ہے ۔ ہم میں یہ وہ دوسرا کمزور پہلو ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین نے ، اپنے اپنے مفادات کی خاطر قومی سوچ کو پروان ہی نہیں چڑھنے دیا ۔ اس علاقائی مسائل پر سیاست کرنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ہم صرف اس محدود سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ، کہ کسی ترقیاتی کام سے میرے علاقے کو کیا فائدہ ہے ؟ پٹھان ، مہاجر ، بلوچ ، پنجابی ، سندھی ، ہزارہ وال ، سرائیکی وغیرہ وغیرہ پہچان ہے ۔ ہونی چاہئیے اور برقرار رہنی چاہئیے ۔ یہ سوچ کسی نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ مگر اصل سوچ پاکستانی بن کر سوچنا ہے ۔ سیاستدان تو یہی چاہتے ہیں کہ قوم کسی نہ کسی مسئلے پر بکھری رہے ، مگر باشعور عوام کو سوچنا چاہئیے اور یقین بنا لینا چاہئیے کہ جو بھی ترقیاتی کام پاکستان کیلئے ہوگا ، اس سے پورا ملک استفادہ کرے گا ۔ قدرتی گیس ، بلوچستان سے نکلی ، اسکا فائدہ کس کس کو نہیں ہوا ۔ پاکستان میں پانی کے ذخائیر ہونگے ، زراعت بہتر ہوگی ، فصل کہیں بھی اگے گی ، فائدہ کس کو ہو گا ۔ کیا گندم کی فراوانی ہوگی ، چاول کی فراوانی ہوگی ، کپاس اگے گی ، گنا کثرت میں ہوگا ، بھیڑ بکریاں اور مویشی کثرت میں ہونگے ، لکڑی کے جنگلات عام ہونگے ۔ تو کیا اس تمام پیداوار کا استفادہ صرف اگانے والے تک محدود رہ جاتا ہے یا ساری قوم فائدہ اٹھاتی ہے ؟ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔ اگر عوام کا شعور جاگ جائے تو سیاسی مداری کبھی اس طرح کے مسائل سے ورغلانے کی سیاست نہیں کریں گے ۔ کہ اس ترقیاتی پروگرام سے اس صوبے کو فائدہ ہے ، اس صوبے کو نقصان ہے ۔ جب تک یہ شعور قوم میں نہیں آئے گا کہ ہم سب کی شناخت اس ملک کی شناخت سے وابستہ ہے ۔ دنیا میں پاکستان کی پہچان اچھی ہوگی تو پاکستانی کی عزت ہوگی ، ورنہ ہر ملک میں ہر ائیرپورٹ پہ جو سلوک ہو رہا ہے ، اس سے بھی بدتر کیطرف چلے جائیں گے ۔ ہمارا وقار وطن کے ساتھ ہے ، کوئی نہیں جانتا کہ پنجاب خوشحال تو پنجابی کو عزت دو ۔ ملک کے ہر باشعور شہری پر قومی ذمہ داری ہے اور اس مٹی کا قرض ہے کہ ہم قومی سوچ اجاگر کرنے میں اپنا اپنا حصہ ادا کریں ۔ یاد رکھیں کہ سیاسی وابستگی وطن سے زیادہ اہم نہیں ہے ۔
آزاد ھاشمی
٤ جولائی ٢٠١٨
ہم سنا نہ سکے
ہم سنا نہ سکے
تم کو فرصت نہ ملی
من کی باتیں ، من میں رہ گئیں
اب کیا سنائیں
اب کون سنے گا
کون سنے گا خواب ادھورے
کون سنے گا ٹوٹی آسیں
کس سے کہوں
کیسے کہوں
ٹھنڈی آہیں بھرتے بھرتے
کیسے بیتی عمر ہماری
کیا ہوئے وہ خواب ادھورے
کیسے سلگے ارماں اپنے
بولنا چاہا ، بول نہ پائے
سوچتے رہ گئے کہ بول ہی دیتے
اب تو دل بھی ساتھ نہیں ہے
سانسیں بھی اب روٹھنے لگ گئیں
ساری خواہشیں ٹوٹنے لگ گئیں
جانتے ہیں انجان نہیں ہیں
اک دردتم بھی رکھتے ہو
ہم تم کو یاد بھی آتے ہیں
اب تم بھی آہیں لیتے ہو
اب تم بھی بولنا چاہتے ہو
اب چند سانسوں کا کھیل ہے باقی
اب سن بھی لیا تو گیا ہوگا
اب بول بھی دیا تو کیا ہوگا
آزاد ھاشمی
٥ جولائی ٢٠١٨
حب الوطنی کا تقاضا ۔ بے ضمیر سیاستدانوں کا صفایا
" حب الوطنی کا تقاضا ، بے ضمیر سیاستدانوں کا صفایا "
دنیا بھر میں گھٹیا سے گھٹیا سیاستدان کا بھی کچھ رکھ رکھاو ہوتا ہے ، کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں اور کوئی نہ کوئی ایسا نظریہ ہوتا ہے ، جس سے وہ اپنے وطن کی خدمت کرنا چاہتا ہے ۔ مگر ہم جس ملک میں رہتے ہیں ، یہاں کسی ایک سیاستدان کا کردار ایسا نہیں ، جس سے نظریہ کی ادنیٰ سی جھلک بھی نظر آتی ہو ۔ سب کے سامنے ایک ہی منزل ہے اور وہ ہے کرسی کا حصول ۔ کرسی کے حصول کیلئے سرمایہ کاری کی جاتی ہے ، وہ شخص جس کے پڑوس میں لوگ کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں اور اسے توفیق نہیں ہوتی کہ انکی مدد پر چند سکے خرچ کر ڈالے ۔ مگر انتخابات پر کروڑوں روپے ایسے اڑا دئیے جاتے ہیں ، جیسے چوری کا مال ۔ وفاداریاں یوں تبدیل ہوتی ہیں ، کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے ۔ جس لیڈر کی تعریفیں کرتے منہ نہیں تھکتا تھا ، اسی پر رکھوالی کے کتے کیطرح بھونکنے لگتے ہیں ۔ جس نے ہڈی ڈالی ، اسی کے ساتھ چل پڑنے والے یہ سیاستدان ، اس ملک کو چاٹنے والی اصل دیمک ہے ۔ تعجب ہوتا ہے جب بڑے بڑے خاندانی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ، کرسی کی خاطر کسی بھی لیڈر کے سامنے ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں ۔ تو انکی خاندانی آن بان کہاں چلی جاتی ہے ۔ اسوقت سیاست کے میدان میں ، تمام پارٹیوں کے قائدین سمیت اسی قماش کے لوگ ہیں ۔ جو کل اس عزم پر ڈٹے ہوئے تھے کہ ہم نے پرانے سیاستدانوں کو شکست دینی ہے ، آج انہی پرانے سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے ہیں ۔
جب تک اس قسم کے ضمیر فروش سیاسی لوگوں کا صفایا نہیں ہو جاتا ، تب تک اس ملک کے ساتھ یہی کھلواڑ ہوتا رہے گا ۔ اور یہ قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ حب الوطنی کیخاطر ، سارے ذاتی مراسم ، تعلقات اور مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان گندی مچھلیوں کو تالاب سے باہر نکال دیں ۔ یہی حب الوطنی کا تقاضا ہے ۔ اگر میں اور آپ ایسا کرنے میں کسی بھی مصلحت سے کام لیتے ہیں ، تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ کسی دوسرے پر غداری کا الزام لگائیں ۔ میں اور آپ منافق بھی ہیں اور غدار بھی ۔ ہم وہ دیمک ہیں جو ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ کیا آپ اس پر دولمحے سوچیں گے ؟ کیا آپ یہ شعور اپنے قریبی شناسا کو دیں گے ؟ کیا آپ ووٹ دیتے وقت اپنے ضمیر کی آواز سنیں گے ؟ اگر ہاں تو آپ قابل تحسین ہیں ، اگر نہیں تو آپ نے دھرتی کے حق میں خیانت کی ہے ۔ آپ مٹی کا ایک بت ہیں اور ایمانی جذبے سے خالی ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٥ جولائی ٢٠١٨
چوہدری نثار کے نام
" چوہدری نثار کے نام "
محترم چوہدری صاحب ! اللہ آپ کے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کو تقویت نصیب کرے ۔ آمین۔
آپ نے چونتیس سال دوستی اور وفا کی لازوال مثال قائم کی ۔ ایک دوست کے راز سینے میں ایسے دفن کئے کہ دوسرے کان خبر نہ ہونے دی ۔ آپ کی یہ مثال یقینی طور پر قابل ستائش ہے اور تاریخ میں آپ امر ہو گئے ہیں ۔ آپ کبھی کبھی سوچتے بھی ہونگے کہ کس احمق قوم سے آپ کا واسطہ پڑا ہے ۔ آپ خوش ہوتے ہونگے اور اعزاز سمجھتے ہونگے کہ آپ نے خلوص کی مثال قائم کردی ۔ اور پورے چونتیس سال ، اس دھرتی سے دغا ہوتے دیکھتے رہے ، جس نے اپنی آغوش میں رکھ کر آپ کو عزت بخشی ۔ کیا اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے ایک طرف دوستی نبھائی اور دوسری طرف ننگ ملک و ملت بنے رہے ۔ شاید آپ کی نظر میں اعزاز ہے جو ہر میڈیا پر اظہار فرما رہے ہیں ۔ مگر حقیقت میں یہ وطن سے غداری ہے ۔ آپ نے کئی بار حلف اٹھایا ہوگا کہ آپ ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں گے ۔ آپ نے قوم سے تو جھوٹ بولا ہی تھا ، آپ نے اللہ سے بھی جھوٹ بولا ہے ۔ آپ وزیرداخلہ رہے ، مگر چوروں کے راز سینے میں چھپاتے رہے ۔ اب اگر آپ کا ضمیر جاگ بھی گیا ہے تو کیسے یقین کر لیا جائے ۔ کہ آپ یہ خصلت اور فطرت چھوڑ دیں گے ؟ کیا آپ کے اس اقرار پر کہ آپ نے کچھ ایسے راز ابھی تک آشکار نہیں کئے کہ جو بتا دئیے تو شریف برادران منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ مطلب یہ ہوا کہ ابھی بھی آپ قوم کے دوست نہیں بنے ۔ ابھی بھی آپ کو وطن نہیں دوستی عزیز ہے ۔ محترم ! یہ خوبی نہیں ، برائی کی انتہائی گھٹیا شکل ہے ۔
آپ کبھی فرصت میں بیٹھ سوچتے بھی ہونگے اور محظوظ بھی ہوتے ہونگے کہ کتنی احمق قوم ہے ۔ اتنا کچھ بتا چکا ہوں ، پھر بھی میرے لئے نعرے لگا رہے ہیں ۔ اغلب امکان ہے کہ آپ کے مخالفین کو شکست بھی ہو گی ۔
چوہدری صاحب ! کتنے سال اور جی لو گے ؟ اپنے اعمال کے ترازو کو برابر ہی کر لو ۔ جتنی وطن دشمنی کی ہے اتنی وطن دوستی کر لو ۔
آزاد ھاشمی
5 جولائی ٢٠١٨
Tuesday, 3 July 2018
Monday, 2 July 2018
حب الوطنی کا پہلا تقاضا
" حب الوطنی کا پہلا تقاضا "
ہم نے جتنا ہو سکا موجودہ سیاست پر ، ملکی مسائل پہ ، معیشت پہ اور دیگر معاملات پر تجزئیے اور تبصرے شروع کر رکھے ہیں ۔ کسی ملک کو اسکے قدموں پر کھڑا کرنے کا جو کردار قوم ادا کرتی ہے وہ سیاستدان یا حکمران کبھی نہیں کر سکتے ۔ اسطرف ہم نے کبھی توجہ ہی نہیں دی ۔ دنیا میں جو ملک آج ترقی یافتہ کہلاتا ہے ، اسکے عوام پر غور کیا جائے کہ وہ کتنے محب وطن ہیں اور ہم اپنے اوپر غور کریں کہ ہمارا کردار کیا ہے ، تو اصل اسباب سامنے آ جائیں گے ۔
ہم معاشی شکستگی کے باوجود ، اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمارے رہن سہن میں ہماری روزمرہ کی ضروریات میں غیر ملکی مصنوعات ہونا چاہئیں ۔ ہم اس سمجھوتے پہ راضی ہی نہیں ہوتے کہ چلیں کچھ کم معیاری ہی سہی ، اپنے ملک کی مصنوعات پر انحصار کر لیں ۔ اگر یہ سوچ بن جائے تو بغیر کسی مشکل کے ہماری صنعتیں ترقی کرنے لگیں گی ۔ صنعتکاروں میں مقابلہ بازی کا رحجان پیدا ہو گا اور قیمتیں از خود اعتدال پہ آجائیں گی ۔ بے روزگاری میں کمی ہو جائے گی ۔ زر ساقط گردش میں آجائے گا ۔
کہتے ہیں کہ جب ایک تاجر گھر سے نکلتا ہے تو سو دوسرے لوگوں کا رزق ساتھ لیکر نکلتا ہے ۔ ہم نے اس رحجان کی حوصلہ شکنی کی ۔ تاجر مایوسی کا شکار ہو کر اپنا سرمایہ ادھر ادھر لگانے لگ گئے ، صنعتیں سکڑنے لگیں ،درآمدات بڑھ گئیں ، زر مبادلہ آنے کی بجائے جانے لگا اور ہماری کرنسی زوال پذیر ہونے لگی ۔ ہم نے واویلا شروع کردیا کہ حکمرانوں نے ہمیں لوٹ لیا ۔ یہ بھی ایک حقیقت تھی مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ ہم نے اس شاخ کو کاٹا جس پر ہم بیٹھے تھے ۔
کیا ممکن ہے کہ میں اور آپ یہ ثبوت دیں کہ ملکی مصنوعات پر کلی انحصار کریں گے ، درآمد شدہ سے گریز کیا جائیگا ۔ کیا ممکن ہے کہ ہم اپنے اپنے حلقہ احباب میں اگاہی کا جہاد شروع کریں گے کہ ملکی مصنوعات کو اپنایا جائے ؟ اگر نہیں تو جذبہ حب الوطنی کا پرچار کرنے کا مجھے اور آپ کو کوئی حق نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢ جولائی ٢٠١٨
Sunday, 1 July 2018
فوج پر تنقید میں شدت
" فوج پر تنقید میں شدت "
فوج کی عام شہری معاملات میں مداخلت نے فوج کو باقاعدہ ایک فریق بنا دیا ہے ۔ حالانکہ مارشل لاء جب بھی لگایا گیا ، سیاسی جنازے پر لگا ۔ فوج جب بھی شہروں میں آئی ، سیاسی حکمرانوں کی درخواست پر آئی ۔ جب بھی کوئی ادارہ اپنے انتظامات کا کنٹرول نہ سنبھال سکا فوج کو بلایا یا رینجرز کو ۔ کراچی میں کے ای ایس سی ، جب ناکام ہوئی تو انتظام فوج کو دیا ، انہوں نے نظام درست کیا ۔ بد امنی جب پولیس کے قابو سے باہر ہوئی تو فوج کو بلایا گیا ۔ ایسے بیشمار واقعات ہیں ، جس پر فوج کو باقاعدہ طلب کیا جاتا ہے اور یہ کام سب سیاسی حکمرانوں نے کیا ۔ ابھی انتخابات ہونگے ، تو اسکی سیکورٹی فوج کو کرنا ہوگی ۔ کیوں ؟ اسلئے کہ پولیس پر انہی سیاسی پارٹیوں کو اعتماد نہیں ۔ کوئی بھی آفت آ جاتی ہے ۔ فوج کے سربراہان اگر تعاون سے انکار کر دیں تو ملکی سلامتی کو خطرات کا طعنہ ملنے لگتا ہے ۔ اگر مان لیں تو جرائم پیشہ چیخنے لگتے ہیں ۔
اب یہ عناد عام شہری کو ہونے لگا ہے ۔ موبائل فون پر ایک آڈیو کلپ گردش کر رہا ہے جس میں ایک میجر صاحب مردم شماری کا ریکارڈ طلب کر رہے ہیں ۔ ریکارڈنگ میں کوئی ثبوت نہیں کہ بولنے والا میجر ہی ہے یا کسی نے فوج کی دشمنی میں ، تحریک چلا رکھی ہے ۔ اور اس کلپ کو اچھے خاصے با شعور لوگ بھی اس تاکید کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں کہ سب رابطوں پر ضرور بھیجیں ۔ ایک عقلمند شہری کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ یہ سمجھ لے کہ اگر میجر کو دفتری ضرورت کیلئے کوئی معلومات درکار ہوں گی تو وہ فون پر درخواست نہیں کرے گا ۔ دفتر کا مروجہ طریقہ استعمال کرے گا ۔ ضروری معلومات دفتر خود بخود پہنچ جائیں گی ۔
نواز شریف کو ہمیشہ ایک خبط رہا ہے کہ فوج اسکی دشمن ہے ۔ آئی ایس آئی اسکے خلاف ہے ۔ اب یہ واویلا شروع کر دیا ہے کہ اسکے امیدواروں کو ڈرا دھمکا کر ٹکٹ واپس کرنے پر مجبور کیا جا رہا ۔اکثر حلقوں میں امیدواروں کی لوگ جوتا پریڈ کرنے لگے ہیں ، کہ انہوں نے ختم نبوت کے قانون پر وار کیا ، یا انہوں نے اپنے حلقے کی کبھی خبر نہیں لی ۔ وہ اس خوف سے بھی آزاد انتخاب لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں کہ پارٹی سے الیکشن لڑنے پر شکست کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ ایک صاحب بول رہے ہیں کہ ایجنسی کے لوگوں نے اس مارا پیٹا ہے ۔ عجیب احمقانہ رویہ ہے ۔ پوری دنیا اس خوف میں تھی کہ اگر بھٹو کو پھانسی دی گئی تو ایک آگ لگ جائے گی ۔ ملک کے ٹکڑے ہو جائیں گے ۔ کیا ہوا ؟ اب ایسی ہی دھمکی نواز شریف صاحب نے دینا شروع کی ہے ۔ مگر بھٹو تیسری دنیا کا لیڈر تھا ، یہ بیچارہ تو پورے پاکستان کا بھی لیڈر نہیں ۔
سیاست کریں ، شوق سے کریں ۔ اپنے نظریات پر کریں اپنی سٹریٹ پاور پہ کریں ۔ فوج ایک ادارہ باقی ہے ، جو دشمن کے سامنے قائم دیوار ہے ۔ اس کو کمزور کر کے ملک کی تباہی کا انتظام مت کریں ۔ افواہیں پھیلائیں ، جھوٹ بولیں ، قوم کو بیوقوف بنائیں ، ملک لوٹ لوٹ کر لے جائیں ، حکومت یہاں کریں اور گھر باہر بنائیں ۔ جاہل قوم آپ کے ساتھ ہے ۔ جمہوریت کا کھیل کھیلیں ، موج کریں ۔ فوج کو الگ رہنے دیں ۔ عام شہری ، بقراط نہ بنے اور بے سروپا فون پر آنے والے پیغامات کو آگے مت بھیجیں ۔ خصوصی طور پر فوج کے خلاف ۔ اپنے قومی فرض کو پہچانیں ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ جون ٢٠١٨
