Thursday, 5 July 2018

حب الوطنی کا تقاضا ۔ بے ضمیر سیاستدانوں کا صفایا

" حب الوطنی کا تقاضا ، بے ضمیر سیاستدانوں کا صفایا "
دنیا بھر میں گھٹیا سے گھٹیا سیاستدان کا بھی کچھ رکھ رکھاو ہوتا ہے ، کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں اور کوئی نہ کوئی ایسا نظریہ ہوتا ہے ، جس سے وہ اپنے وطن کی خدمت کرنا چاہتا ہے ۔ مگر ہم جس ملک میں رہتے ہیں ، یہاں کسی ایک سیاستدان کا کردار ایسا نہیں ، جس سے نظریہ کی ادنیٰ سی جھلک بھی نظر آتی ہو ۔ سب کے سامنے ایک ہی منزل ہے اور وہ ہے کرسی کا حصول ۔ کرسی کے حصول کیلئے سرمایہ کاری کی جاتی ہے ، وہ شخص جس کے پڑوس میں لوگ کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں اور اسے توفیق نہیں ہوتی کہ انکی مدد پر چند سکے خرچ کر ڈالے ۔ مگر انتخابات پر کروڑوں روپے ایسے اڑا دئیے جاتے ہیں ، جیسے چوری کا مال ۔ وفاداریاں یوں تبدیل ہوتی ہیں ، کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے ۔ جس لیڈر کی تعریفیں کرتے منہ نہیں تھکتا تھا ، اسی پر رکھوالی کے کتے کیطرح بھونکنے لگتے ہیں ۔ جس نے ہڈی ڈالی ، اسی کے ساتھ چل پڑنے والے یہ سیاستدان ، اس ملک کو چاٹنے والی اصل دیمک ہے ۔ تعجب ہوتا ہے جب بڑے بڑے خاندانی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ، کرسی کی خاطر کسی بھی لیڈر کے سامنے ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں ۔  تو انکی خاندانی آن بان کہاں چلی جاتی ہے ۔ اسوقت سیاست کے میدان میں ، تمام پارٹیوں کے قائدین سمیت اسی قماش کے لوگ ہیں ۔ جو کل اس عزم پر ڈٹے ہوئے تھے کہ ہم نے پرانے سیاستدانوں کو شکست دینی ہے ، آج انہی پرانے سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے ہیں ۔
جب تک اس قسم کے ضمیر فروش سیاسی لوگوں کا صفایا نہیں ہو جاتا ، تب تک اس ملک کے ساتھ یہی کھلواڑ ہوتا رہے گا ۔ اور یہ قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ حب الوطنی کیخاطر ، سارے ذاتی مراسم ، تعلقات اور مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان گندی مچھلیوں کو تالاب سے باہر نکال دیں ۔ یہی حب الوطنی کا تقاضا ہے ۔ اگر میں اور آپ ایسا کرنے میں کسی بھی مصلحت سے کام لیتے ہیں ، تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ کسی دوسرے پر غداری کا الزام لگائیں ۔ میں اور آپ منافق بھی ہیں اور غدار بھی ۔ ہم وہ دیمک ہیں جو ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ کیا آپ اس پر دولمحے سوچیں گے ؟ کیا آپ یہ شعور اپنے قریبی شناسا کو دیں گے ؟ کیا آپ ووٹ دیتے وقت اپنے ضمیر کی آواز سنیں گے ؟ اگر ہاں تو آپ قابل تحسین ہیں ، اگر نہیں تو آپ نے دھرتی کے حق میں خیانت کی ہے ۔ آپ مٹی کا ایک بت ہیں اور ایمانی جذبے سے خالی ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٥ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment