" فوج پر تنقید میں شدت "
فوج کی عام شہری معاملات میں مداخلت نے فوج کو باقاعدہ ایک فریق بنا دیا ہے ۔ حالانکہ مارشل لاء جب بھی لگایا گیا ، سیاسی جنازے پر لگا ۔ فوج جب بھی شہروں میں آئی ، سیاسی حکمرانوں کی درخواست پر آئی ۔ جب بھی کوئی ادارہ اپنے انتظامات کا کنٹرول نہ سنبھال سکا فوج کو بلایا یا رینجرز کو ۔ کراچی میں کے ای ایس سی ، جب ناکام ہوئی تو انتظام فوج کو دیا ، انہوں نے نظام درست کیا ۔ بد امنی جب پولیس کے قابو سے باہر ہوئی تو فوج کو بلایا گیا ۔ ایسے بیشمار واقعات ہیں ، جس پر فوج کو باقاعدہ طلب کیا جاتا ہے اور یہ کام سب سیاسی حکمرانوں نے کیا ۔ ابھی انتخابات ہونگے ، تو اسکی سیکورٹی فوج کو کرنا ہوگی ۔ کیوں ؟ اسلئے کہ پولیس پر انہی سیاسی پارٹیوں کو اعتماد نہیں ۔ کوئی بھی آفت آ جاتی ہے ۔ فوج کے سربراہان اگر تعاون سے انکار کر دیں تو ملکی سلامتی کو خطرات کا طعنہ ملنے لگتا ہے ۔ اگر مان لیں تو جرائم پیشہ چیخنے لگتے ہیں ۔
اب یہ عناد عام شہری کو ہونے لگا ہے ۔ موبائل فون پر ایک آڈیو کلپ گردش کر رہا ہے جس میں ایک میجر صاحب مردم شماری کا ریکارڈ طلب کر رہے ہیں ۔ ریکارڈنگ میں کوئی ثبوت نہیں کہ بولنے والا میجر ہی ہے یا کسی نے فوج کی دشمنی میں ، تحریک چلا رکھی ہے ۔ اور اس کلپ کو اچھے خاصے با شعور لوگ بھی اس تاکید کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں کہ سب رابطوں پر ضرور بھیجیں ۔ ایک عقلمند شہری کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ یہ سمجھ لے کہ اگر میجر کو دفتری ضرورت کیلئے کوئی معلومات درکار ہوں گی تو وہ فون پر درخواست نہیں کرے گا ۔ دفتر کا مروجہ طریقہ استعمال کرے گا ۔ ضروری معلومات دفتر خود بخود پہنچ جائیں گی ۔
نواز شریف کو ہمیشہ ایک خبط رہا ہے کہ فوج اسکی دشمن ہے ۔ آئی ایس آئی اسکے خلاف ہے ۔ اب یہ واویلا شروع کر دیا ہے کہ اسکے امیدواروں کو ڈرا دھمکا کر ٹکٹ واپس کرنے پر مجبور کیا جا رہا ۔اکثر حلقوں میں امیدواروں کی لوگ جوتا پریڈ کرنے لگے ہیں ، کہ انہوں نے ختم نبوت کے قانون پر وار کیا ، یا انہوں نے اپنے حلقے کی کبھی خبر نہیں لی ۔ وہ اس خوف سے بھی آزاد انتخاب لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں کہ پارٹی سے الیکشن لڑنے پر شکست کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ ایک صاحب بول رہے ہیں کہ ایجنسی کے لوگوں نے اس مارا پیٹا ہے ۔ عجیب احمقانہ رویہ ہے ۔ پوری دنیا اس خوف میں تھی کہ اگر بھٹو کو پھانسی دی گئی تو ایک آگ لگ جائے گی ۔ ملک کے ٹکڑے ہو جائیں گے ۔ کیا ہوا ؟ اب ایسی ہی دھمکی نواز شریف صاحب نے دینا شروع کی ہے ۔ مگر بھٹو تیسری دنیا کا لیڈر تھا ، یہ بیچارہ تو پورے پاکستان کا بھی لیڈر نہیں ۔
سیاست کریں ، شوق سے کریں ۔ اپنے نظریات پر کریں اپنی سٹریٹ پاور پہ کریں ۔ فوج ایک ادارہ باقی ہے ، جو دشمن کے سامنے قائم دیوار ہے ۔ اس کو کمزور کر کے ملک کی تباہی کا انتظام مت کریں ۔ افواہیں پھیلائیں ، جھوٹ بولیں ، قوم کو بیوقوف بنائیں ، ملک لوٹ لوٹ کر لے جائیں ، حکومت یہاں کریں اور گھر باہر بنائیں ۔ جاہل قوم آپ کے ساتھ ہے ۔ جمہوریت کا کھیل کھیلیں ، موج کریں ۔ فوج کو الگ رہنے دیں ۔ عام شہری ، بقراط نہ بنے اور بے سروپا فون پر آنے والے پیغامات کو آگے مت بھیجیں ۔ خصوصی طور پر فوج کے خلاف ۔ اپنے قومی فرض کو پہچانیں ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ جون ٢٠١٨
Sunday, 1 July 2018
فوج پر تنقید میں شدت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment