Saturday, 7 July 2018

دماغ خراب ہے

" دماغ خراب ہے "
بابا جی نے پکوڑوں کا پیکٹ گاہک کے ہاتھ واپس لیا اور اپنے پاس رکھ لیا ۔ نوجوان گاہک اور دوسرے سب موجود بابا جی کی حرکت پر پریشان بھی تھے اور حیران بھی ۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیا ہوا جس نے باباجی کو اتنا برہم کر دیا ۔
" کیا ہوا بابا جی "
میں نے پوچھ لیا ۔
" میرے دیس کو گالی دیتا ہے کم بخت ۔ میری دھرتی کو برا کہتا ہے ۔ "
باباجی خون اگلتی آنکھوں سے نوجوان کو دیکھتے ہوئے بولے ۔
" بزرگو ! کیا دیا اس دیس نے آپکو ۔ اس عمر میں بھی پکوڑے بنا کر پیٹ پال رہے ہو ۔ کل اسی ریہڑی پر مر جاوگے اور کفن کیلئے چندہ اکٹھا کرنا پڑے گا "
ایک اور جوان بول پڑا ۔ خلاف توقع بابا جی خاموش رہے ۔ لمبی سانس لی ، پانی کے دو گھونٹ پئے اور پسینہ پونچھتے ہوئے ، کڑاہی کے نیچے چولہا بند کر کے ، سٹول پر بیٹھ گئے ۔
" پاگل ہو گیا ہے بڈھا ۔ "
ایک ایک کرکے سارے گاہک چلتے بنے ، میری شناسائی دوستی کی حد تک تھی ۔ آج کا رویہ میرے لئے بھی سوال تھا ۔ اس کی ساری دنیا یہی پکوڑوں والی ریہڑی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن اسکی زندگی کا سامان تھا ۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ اس عمر میں یہ کشاکشی ایک امتحان تھی ۔ بابا جی کا چہرے پر زردی ابھر رہی تھی ۔
" لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا دیا اس دیس نے مجھے ۔ " بابا جی نے آنسو روکنے کی کوشش کی ۔ مگر نہ روک سکے ۔
" ہم کیسے لوگ ہیں بیٹا ! نہ عقل نہ شعور ۔ ہم وطن سے مانگتے ہیں ۔ جو قومیں دیس کی مٹی سے بھی مانگنے لگتی ہیں ، انکا انجام اچھا نہیں ہوتا ۔ دیس کو دیا جاتا ہے ۔ ہم نے کبھی سوچا کہ ہم نے دیس کو کیا دیا ؟ اس مٹی کو جو میرے اور آپ کیلئے اناج اگاتی ہے ، جو درخت اگاتی ہے کہ ہمیں چھاوں ملے ۔ جس کے سینے پر دوڑتے پانی سے ہم سیراب ہوتے ہیں ۔ دیس ہمیں پہچان دیتا ہے ۔ اور کیا چاہئیے ۔ میں پکوڑے بنا کر خوش ہوں ۔ نہ وطن سے شکایت ہے نہ قسمت سے ۔ اللہ نے مجھ سے یہی کام لینا تھا ، میں اسی کام کے قابل تھا ۔ جب مجھے شکایت نہیں تو ان نوجوانوں کو کیا تکلیف ہے ۔ یہ میرے وطن کو برا کہیں گے تو میں کیسے برداشت کر لوں ۔ یہ دھرتی میری ماں ہے ۔ اسے کوئی گالی دے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔ "
" روتا اسلئے ہوں کہ جب یہ وطن انکے ہاتھ میں آئے گا تو یہ وطن کا کیا حال کریں گے ۔ یہ تو نوچ نوچ کر کھا لیں گے اس وطن کو ، جیسے انکے باپ دادا کھا رہے ہیں ۔ یہی لوگ حکمران بنتے ہیں ۔ اسلئے صبر نہیں ہوتا " بابا جی نے پھر بلک بلک کر رونا شروع کر دیا ۔
" بیٹا ! جب یہ وطن بنا تھا تو راوی دریا میں پانی نہیں خون بہہ رہا تھا ۔ معصوم بچے برچھیوں پہ ٹنگے ہوئے تھے ۔ ہماری نوجوان بہن بیٹیوں کو سکھ چھین کر لے گئے تھے ۔ اس وطن کو نوچتے ہیں یہ کمینے "
بابا جی کی آنکھوں میں آزادی کے روز خون بہنے والا راوی دریا رواں تھا ۔
آزاد ھاشمی
٧ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment