" حب الوطنی کا دوسرا تقاضا "
قومی سوچ ، کسی بھی وطن کی اساس ہوتی ہے ۔ ہم میں یہ وہ دوسرا کمزور پہلو ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین نے ، اپنے اپنے مفادات کی خاطر قومی سوچ کو پروان ہی نہیں چڑھنے دیا ۔ اس علاقائی مسائل پر سیاست کرنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ہم صرف اس محدود سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ، کہ کسی ترقیاتی کام سے میرے علاقے کو کیا فائدہ ہے ؟ پٹھان ، مہاجر ، بلوچ ، پنجابی ، سندھی ، ہزارہ وال ، سرائیکی وغیرہ وغیرہ پہچان ہے ۔ ہونی چاہئیے اور برقرار رہنی چاہئیے ۔ یہ سوچ کسی نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ مگر اصل سوچ پاکستانی بن کر سوچنا ہے ۔ سیاستدان تو یہی چاہتے ہیں کہ قوم کسی نہ کسی مسئلے پر بکھری رہے ، مگر باشعور عوام کو سوچنا چاہئیے اور یقین بنا لینا چاہئیے کہ جو بھی ترقیاتی کام پاکستان کیلئے ہوگا ، اس سے پورا ملک استفادہ کرے گا ۔ قدرتی گیس ، بلوچستان سے نکلی ، اسکا فائدہ کس کس کو نہیں ہوا ۔ پاکستان میں پانی کے ذخائیر ہونگے ، زراعت بہتر ہوگی ، فصل کہیں بھی اگے گی ، فائدہ کس کو ہو گا ۔ کیا گندم کی فراوانی ہوگی ، چاول کی فراوانی ہوگی ، کپاس اگے گی ، گنا کثرت میں ہوگا ، بھیڑ بکریاں اور مویشی کثرت میں ہونگے ، لکڑی کے جنگلات عام ہونگے ۔ تو کیا اس تمام پیداوار کا استفادہ صرف اگانے والے تک محدود رہ جاتا ہے یا ساری قوم فائدہ اٹھاتی ہے ؟ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔ اگر عوام کا شعور جاگ جائے تو سیاسی مداری کبھی اس طرح کے مسائل سے ورغلانے کی سیاست نہیں کریں گے ۔ کہ اس ترقیاتی پروگرام سے اس صوبے کو فائدہ ہے ، اس صوبے کو نقصان ہے ۔ جب تک یہ شعور قوم میں نہیں آئے گا کہ ہم سب کی شناخت اس ملک کی شناخت سے وابستہ ہے ۔ دنیا میں پاکستان کی پہچان اچھی ہوگی تو پاکستانی کی عزت ہوگی ، ورنہ ہر ملک میں ہر ائیرپورٹ پہ جو سلوک ہو رہا ہے ، اس سے بھی بدتر کیطرف چلے جائیں گے ۔ ہمارا وقار وطن کے ساتھ ہے ، کوئی نہیں جانتا کہ پنجاب خوشحال تو پنجابی کو عزت دو ۔ ملک کے ہر باشعور شہری پر قومی ذمہ داری ہے اور اس مٹی کا قرض ہے کہ ہم قومی سوچ اجاگر کرنے میں اپنا اپنا حصہ ادا کریں ۔ یاد رکھیں کہ سیاسی وابستگی وطن سے زیادہ اہم نہیں ہے ۔
آزاد ھاشمی
٤ جولائی ٢٠١٨
Thursday, 5 July 2018
حب الوطنی کا دوسرا تقاضا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment